ایرانی وفد کی آمد کی خبر پر آخری لمحات میں تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس میں اضافہ
- بینچ مارک انڈیکس 170,672.04 پر بند ہوا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں اتار چڑھاؤ سے بھرپور تجارتی سیشن دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کار جغرافیائی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں جمعہ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 1,500 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
کاروبار کا آغاز کچھ مندی کے ساتھ ہوا اور ابتدائی طور پر انڈیکس گر کر 166,380.71 کی نچلی سطح کو چھو گیا۔ تاہم تجارتی سیشن کے دوسرے حصے میں صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب مارکیٹ میں خریداری کا شدید رجحان دیکھا گیا۔ رجحان میں یہ تبدیلی ان رپورٹوں کے بعد آئی جن کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک وفد آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,498.67 پوائنٹس یا 0.89 فیصد اضافے کے ساتھ 170,672.04 پر بند ہوا۔ ایک اہم پیش رفت میں مرکزی بینک نے جمعہ کو تصدیق کی کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 3.45 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی مکمل کر لی ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر مندی کے بادل چھائے رہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط نظر آئے اور وہ جیو پولیٹیکل حالات میں بہتری کے اشاروں کے منتظر رہے۔ اس کے نتیجے میں جمعرات کو 100 انڈیکس 2,406 پوائنٹس یا 1.40 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 169,173.38 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص کی مارکیٹیں دباؤ کا شکار رہیں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ امریکہ ایران امن مذاکرات میں تعطل نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کردیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مثبت رجحان نہ دیکھ سکا۔
عالمی سطح پر جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کے وسیع ترین ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 0.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ ہفتہ 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ ختم ہونے کی جانب گامزن ہے، جبکہ جاپان کے نکئی انڈیکس میں 0.45 فیصد کا اضافہ ہوا، تاہم جنوبی کوریا، چین اور ہانگ کانگ کے بازارِ حصص میں مندی دیکھی گئی۔
گزشتہ رات نیسڈیک فیوچرز اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں بالترتیب 0.6 فیصد اور 0.1 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب یورو اسٹوکس 50 فیوچرز 0.65 فیصد اور ایف ٹی ایس ای فیوچرز 0.9 فیصد گرگئے۔
مارکیٹ کے ان ملے جلے رجحانات نے سرمایہ کاروں کی بے چینی کو واضح کیا کیونکہ رواں ہفتے وہ جنگ کے جلد خاتمے کی امید اور اس میں طویل تاخیر کے خوف کے درمیان مسلسل تذبذب کا شکار رہے۔
جمعرات کو ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی جس میں کمانڈوز کو تیز رفتار کشتی کے ذریعے ایک بڑے مال بردار بحری جہاز پر دھاوا بولتے ہوئے دکھایا گیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے بحریہ کو آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کی سرگرمیوں میں تیزی لانے کا حکم دے دیا ہے۔
ٹرمپ کے یہ ریمارکس ان کے اس بیان کے محض چند دن بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مزید امن مذاکرات کے لیے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کر دیں گے۔

























Comments