BR100 Increased By (0.44%)
BR30 Increased By (1.39%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.61%)
BAFL 58.79 Decreased By ▼ -0.35 (-0.59%)
BIPL 26.82 Increased By ▲ 0.20 (0.75%)
BOP 35.38 Increased By ▲ 0.26 (0.74%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
DFML 19.77 Increased By ▲ 0.08 (0.41%)
DGKC 221.94 Increased By ▲ 3.32 (1.52%)
FABL 96.91 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 58.36 Increased By ▲ 1.61 (2.84%)
FFL 17.84 Decreased By ▼ -0.04 (-0.22%)
GGL 23.54 Decreased By ▼ -0.12 (-0.51%)
HBL 294.10 Increased By ▲ 1.11 (0.38%)
HUBC 231.41 Decreased By ▼ -0.40 (-0.17%)
HUMNL 11.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.45%)
KEL 8.75 Increased By ▲ 0.33 (3.92%)
LOTCHEM 28.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.53%)
MLCF 107.15 Increased By ▲ 3.85 (3.73%)
OGDC 339.96 Increased By ▲ 1.79 (0.53%)
PAEL 44.49 Increased By ▲ 1.02 (2.35%)
PIBTL 18.64 Increased By ▲ 0.94 (5.31%)
PIOC 273.85 Increased By ▲ 3.85 (1.43%)
PPL 247.98 Increased By ▲ 3.66 (1.5%)
PRL 35.29 Decreased By ▼ -0.14 (-0.4%)
SNGP 123.17 Decreased By ▼ -2.49 (-1.98%)
SSGC 32.04 Decreased By ▼ -0.90 (-2.73%)
TELE 8.87 Decreased By ▼ -0.04 (-0.45%)
TPLP 10.57 Decreased By ▼ -0.26 (-2.4%)
TRG 64.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.77%)
UNITY 11.12 Increased By ▲ 0.09 (0.82%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.01 (0.8%)
دنیا

بھارت اور جنوبی کوریا کا دوطرفہ تجارت 50 ارب ڈالر تک بڑھانے کا نیا ہدف

  • دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار وزارتی سطح کی اقتصادی تعاون کمیٹی تشکیل دے دی گئی، صدر لی جے میونگ
شائع April 20, 2026 اپ ڈیٹ April 20, 2026 07:28pm

بھارت اور جنوبی کوریا نے اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے توانائی، اہم معدنیات، جہاز سازی، سیمی کنڈکٹرز اور اسٹیل کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے سال 2030 تک اپنی باہمی تجارت کو دوگنا کر کے 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

نئی دہلی اور سیول نے 2010 کے تجارتی معاہدے کو نئی جلا بخشنے کے لیے مذاکرات کی رفتار تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، کیونکہ بھارت تجارت میں توازن چاہتا ہے جبکہ جنوبی کوریا دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت تک مزید رسائی کا خواہاں ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ اپنے تین روزہ دورے پر بھارت میں موجود ہیں، جو گزشتہ آٹھ برسوں میں کسی بھی جنوبی کوریائی صدر کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ ان کے ہمراہ تقریباً 200 کاروباری شخصیات کا وفد بھی موجود ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر لی نے کہا کہ ہم نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فریم ورک کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ مشترکہ ترقی کے لیے ایک نیا انجن تیار کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار وزارتی سطح کی اقتصادی تعاون کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو جوہری بجلی گھروں، کلین انرجی اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنائے گی۔

صدر لی نے مزید کہا کہ ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی پر پڑنے والے دباؤ کے پیشِ نظر بھارت اور جنوبی کوریا توانائی کے وسائل اور نیفتھا جیسے اہم خام مال کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم مودی نے اس دورے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج ہم اگلے عشرے کی کامیابی کی کہانی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

اسٹیل کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری

بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات کے بعد بتایا کہ تجارتی معاہدے کی بحالی اور ڈیجیٹل تجارت جیسے شعبوں میں تعاون کے لیے فاسٹ ٹریک پر کام کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

دریں اثنا جنوبی کوریا کی کمپنی پوسکو ہولڈنگز نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت کی کمپنی جے ایس ڈبلیو کے ساتھ مل کر ریاست اوڈیشہ میں ایک مشترکہ اسٹیل پلانٹ تعمیر کرے گی۔ ریگولیٹری فائلنگ کے مطابق پوسکو 2031 کے آخر تک اس منصوبے میں 1.09 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس 6 ملین ٹن سالانہ پیداواری صلاحیت کے حامل پلانٹ کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال جنوبی کوریا کو بھارت کے ساتھ تجارت میں 12.8 ارب ڈالر کا سرپلس حاصل تھا، جس میں اس کی برآمدات 19.2 ارب ڈالر اور درآمدات 6.4 ارب ڈالر رہی تھیں۔ بھارت کے بعد جنوبی کوریا کے صدر ویتنام کا دورہ کریں گے۔

Comments

200 حروف