دوران ہفتہ روئی کی قیمتیں بڑی حد تک مستحکم رہیں
- سیزن کی بلند ترین سطح 20,000 روپے فی من تک پہنچ گئیں۔
کراچی کی مقامی مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے روئی کی قیمتیں بڑی حد تک مستحکم رہیں اور سیزن کی بلند ترین سطح 20,000 روپے فی من تک پہنچ گئیں۔
نیویارک کاٹن مارکیٹ میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ سندھ میں بارشوں سے کپاس کی جلد بوائی متاثر ہوئی ہے جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے ٹیکسٹائل اور جننگ سیکٹر کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
ملک میں کپاس کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور مئی، جون تک نئی فصل کی آمد متوقع ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور افغانستان سے درآمد میں رکاوٹ کی وجہ سے سپلائی کا بحران برقرار ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) نے کاٹن زونز میں نئی شوگر ملز کے قیام کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے وزیرِ اعظم اور چیف جسٹس کو خطوط لکھے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کراپ زوننگ قوانین کی خلاف ورزی سے کپاس کی پیداوار 15 ملین بیلز سے گر کر 5.5 ملین بیلز تک رہ گئی ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ درآمدات پر ضائع ہو رہا ہے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments