امریکی عدالت نے یوکرینی ٹینس اسٹار لیسیا تسورینکو کا ڈبلیو ٹی اے کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا
- ویمن ٹینس ایسوسی ایشن نے یوکرین پر حملے کے بعد منطقی اور مدلل فیصلے کیے، امریکی جج بکوالڈ کے ریمارکس
امریکی جج نے یوکرینی ٹینس کھلاڑی لیسیا تسورینکو کی جانب سے دائر کردہ وہ مقدمہ خارج کر دیا ہے جس میں انہوں نے ویمن ٹینس ایسوسی ایشن اور اس کے سابق سربراہ اسٹیو سائمن پر ذہنی اذیت پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔
36 سالہ تسورینکو کا موقف تھا کہ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد ایسوسی ایشن روسی اور بیلاروسی کھلاڑیوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے اور جنگ کی حمایت کرنے والوں پر پابندی لگانے کے اپنے وعدے میں ناکام رہی۔
سابق ٹاپ 25 کھلاڑی تسورینکو نے دعویٰ کیا تھا کہ اسٹیو سائمن نے انہیں بتایا کہ دوسرے کھلاڑیوں کا جنگ کی حمایت کرنا ٹھیک ہے، جس کے باعث انہیں شدید ذہنی دباؤ اور پینک اٹیک کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بیلاروس کی آریانا سبلینکا کے خلاف میچ سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوئیں۔
تاہم مین ہٹن کی ڈسٹرکٹ جج نومی رائس بکوالڈ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کھیلوں کی تنظیموں کی ذمہ داری کھلاڑیوں کی جسمانی حفاظت یقینی بنانا ہوتی ہے، نہ کہ ان کی جذباتی بہبود۔ جج نے ریمارکس دیے کہ ڈبلیو ٹی اے نے حملے کے بعد منطقی فیصلے کیے، دوسری جانب ٹینس ایسوسی ایشن کے وکلاء کا کہنا تھا کہ انفرادی کھلاڑیوں کو ان کی حکومتوں کے اقدامات کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔























Comments