صنعتی صارفین کیلئے آپشنل ملٹی ٹیرف ٹی او یو میکانزم متعارف کروانے پر غور
- اس سلسلے میں متعدد انٹرنل مشاورتی اور تکنیکی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جاچکے ہیں
پاور ڈویژن ایک نئے آپشنل ٹیرف میکانزم کو متعارف کروانے پر غور کررہا ہے جس کا مقصد صنعتی صارفین کو سہولت فراہم کرنا اور بجلی کے استعمال میں مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
یہ پیش رفت وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کے خصوصی اقدام کا حصہ ہے جس کی تفصیلات بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتائی گئی ہیں۔
بیان کے مطابق اس سلسلے میں متعدد انٹرنل مشاورتی اور تکنیکی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جاچکے ہیں۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت صنعتی صارفین کو ملٹی سلیب ٹیرف اسٹرکچرکے انتخاب کی سہولت میسر ہوگی جہاں بجلی کی قیمتوں کا تعین مقررہ اوقات کے حساب سے اوسط مارجنل لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طریقہ کار کو مختلف اوقات کے دوران بجلی کی فراہمی کی اصل لاگت کی بہتر عکاسی کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس ٹیرف کے دو بنیادی اجزاء ہوں گے:
فکسڈ چارجز: ان کا تعین میکسمم ڈیمانڈ انڈیکیٹرز(ایم ڈی آئی) کی بنیاد پر کیا جائے گا اور ان کے نسبتاً زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ اس سے صارفین کو اپنی پیک ڈیمانڈ (بجلی کے زیادہ استعمال کے اوقات) کو کم کرنے اور اسے بہتر بنانے کی ترغیب ملے گی۔
ویری ایبل انرجی چارجز: یہ چارجز نمایاں طور پر معقول بنائے جائیں گے اور انہیں توانائی کی اصل لاگت کے قریب تر لایا جائے گا جس سے قیمتوں کا تعین لاگت کے مطابق کرنا ممکن ہو سکے گا۔
توقع ہے کہ یہ ڈھانچہ صنعتوں کو اس بات کی اجازت دے کر لوڈ مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی ترغیب دے گا کہ وہ اپنی پیداواری سرگرمیاں کم لاگت والے اوقات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔
یہ میکانزم آف پیک اوقات میں بجلی کے زیادہ استعمال کو بھی فروغ دے گا جس سے سسٹم کے لوڈ فیکٹر میں بہتری آئے گی۔ مزید برآں یہ نظام پیک ڈیمانڈ کو کم کرنے کی ترغیب دیگا جس سے گرڈ پر دباؤ کم ہوگا اور مہنگی اضافی صلاحیت کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔
یہ اقدام صنعتی پیداوار اور عالمی مارکیٹ میں مسابقت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا، کیونکہ اس سے بجلی کی قیمتیں زیادہ قابلِ پیش گوئی اور ممکنہ طور پر کم ہو جائیں گی۔
اعلامیے کے مطابق مجموعی طور پر ان ٹیرف اصلاحات سے پاکستان میں پائیدار صنعتی ترقی کے لیے ایک محرک کے طور پر کام کرنے کی توقع ہے، جس سے توانائی کی کارکردگی میں بہتری کے ساتھ ساتھ طویل مدتی اقتصادی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔
تکنیکی تجاویز کے بعد اویس احمد خان لغاری کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے ذریعے مجوزہ نظام کی افادیت اور اس میں سب کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔
اس سلسلے میں ملک بھر کے صنعتی صارفین، چیمبرز آف کامرس اور تجارتی اداروں (ٹریف باڈیز) کے ساتھ مشاورتی عمل شروع کیا جائے گا۔ ان نشستوں سے حاصل ہونے والی آراء اور فیڈ بیک کو اس طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے کے لیے شامل کیا جائے گا۔
وزارت کا کہنا ہے کہ پہلی مشاورتی کانفرنس کل بروز جمعرات، 26 مارچ کو آن لائن منعقد کی جائے گی۔






















Comments