ایران جنگ سے عالمی بحری تجارت شدید متاثر، ٹینکرز سمندر میں پھنس گئے
- تقریباً 150 جہاز سمندر میں لنگر انداز ہو کر پھنس گئے
مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث انشورنس کمپنیوں نے خلیجی پانیوں میں چلنے والے جہازوں کے لیے جنگی خطرات کی کوریج منسوخ کرنا شروع کر دی ہے، جس سے عالمی بحری تجارت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے جہاں سے دنیا میں استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اور بڑی مقدار میں گیس گزرتی ہے۔
ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد متعدد آئل ٹینکر نشانہ بنے۔ پیر کو ایک ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ کم از کم چار دیگر جہازوں کو نقصان پہنچا اور تقریباً 150 جہاز سمندر میں لنگر انداز ہو کر پھنس گئے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق عالمی کنٹینر بردار جہازوں کا تقریباً 10 فیصد وسیع تعطل کا شکار ہے، جس سے یورپ اور ایشیا کی بندرگاہوں پر سامان جمع ہونے کا خدشہ ہے۔
کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت میں 13 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا جبکہ یورپی قدرتی گیس بھی مہنگی ہو گئی۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی بند کر رہا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ہونڈوراس کے پرچم بردار ٹینکر ایتھے نووا کو دو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی پرچم بردار ٹینکر اسٹینا امپیریٹو کو بھی فضائی حملے میں نقصان پہنچا جس سے ایک کارکن ہلاک ہوا۔

























Comments