دی ہنڈریڈ میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا، ای سی بی کا اعلامیہ
- مجموعی طور پر 67 پاکستانی کھلاڑیوں نے سلیکشن کے لیے اپنے نام پیش کر دیے، جن میں 63 مرد اور چار خواتین شامل ہیں
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے کہا ہے کہ دی ہنڈریڈ کیلئے انتخاب میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا،ان رپورٹس کے باوجود کہ بھارت کے ساتھ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے انہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے بی بی سی نے رپورٹ کیا تھا کہ آٹھ ٹیموں کے اس مقابلے میں بھارتی مالکانہ حقوق رکھنے والی چار فرنچائزز مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز اگلے ماہ ہونے والی نیلامی میں پاکستانی کھلاڑیوں کو منتخب کرنے پر غور نہیں کر رہی تھیں۔
مجموعی طور پر 67 پاکستانی کھلاڑیوں 63 مرد اور چار خواتین نے انتخاب کے لیے اپنے نام پیش کیے ہیں۔
ای سی بی نے ایک بیان میں کہا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور دی ہنڈریڈ کی تمام آٹھ فرنچائزز اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ یہ مقابلہ سب کے لیے جامع، خوش آئند اور کھلا رہے۔ تمام آٹھ ٹیموں نے عہد کیا ہے کہ انتخاب کا انحصار مکمل طور پر کرکٹ کی کارکردگی، دستیابی اور ہر ٹیم کی ضروریات پر ہوگا۔
دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کی وجہ سے 2009 سے پاکستانی کھلاڑی منافع بخش انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کا حصہ نہیں رہے ہیں۔ اب جب کہ آئی پی ایل کے کئی مالکان مختلف ممالک میں ٹیموں کے مالک بن چکے ہیں،پاکستانی کرکٹرز کے لیے مختلف دیگر لیگز میں شرکت کے مواقع مزید کم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔کھلاڑیوں کی نیلامی 11 اور 12 مارچ کو لندن میں ہوگی۔
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ان افواہوں پر ای سی بی سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ وان نے ای سی بی کے اس بیان کردہ مقصد کا حوالہ دیتے ہوئے کہ کرکٹ کو انگلینڈ کا سب سے جامع کھیل بنانا ہے۔























Comments