BR100 Decreased By (-0.84%)
BR30 Decreased By (-1.35%)
KSE100 Decreased By (-0.77%)
KSE30 Decreased By (-0.77%)
BAFL 56.57 Decreased By ▼ -0.30 (-0.53%)
BIPL 24.75 Decreased By ▼ -0.21 (-0.84%)
BOP 30.14 Decreased By ▼ -0.21 (-0.69%)
CNERGY 12.96 Decreased By ▼ -0.16 (-1.22%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.50 Decreased By ▼ -4.95 (-2.57%)
FABL 93.77 Decreased By ▼ -0.37 (-0.39%)
FCCL 51.99 Decreased By ▼ -0.80 (-1.52%)
FFL 14.53 Decreased By ▼ -0.19 (-1.29%)
GGL 19.10 Decreased By ▼ -0.46 (-2.35%)
HBL 303.94 Decreased By ▼ -2.16 (-0.71%)
HUBC 198.90 Decreased By ▼ -2.52 (-1.25%)
HUMNL 9.82 Decreased By ▼ -0.34 (-3.35%)
KEL 6.05 Decreased By ▼ -0.04 (-0.66%)
LOTCHEM 26.01 Decreased By ▼ -0.45 (-1.7%)
MLCF 91.49 Decreased By ▼ -1.67 (-1.79%)
OGDC 313.40 Decreased By ▼ -3.33 (-1.05%)
PAEL 35.20 Decreased By ▼ -0.43 (-1.21%)
PIBTL 14.74 Increased By ▲ 0.06 (0.41%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -5.91 (-2.6%)
PRL 91.12 Decreased By ▼ -1.90 (-2.04%)
SNGP 90.90 Decreased By ▼ -0.94 (-1.02%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.80 Decreased By ▼ -0.76 (-1.34%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

ایف پی سی سی آئی کا ڈی پی پی اور پی ایس کیو سی اے کے رسک مینجمنٹ سسٹم کو فعال کرنے کا مطالبہ

  • بہتری کے باوجود درآمدات اور برآمدات کے ریگولیٹری شعبے میں اب بھی چیلنجز موجود ہیں، عاطف اکرم شیخ
شائع اپ ڈیٹ

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسٹمز کی طرز پر محکمہ تحفظِ نباتات (ڈی پی پی)، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) اور دیگر سرکاری اداروں کے رسک مینجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) کو فعال کیا جائے۔

پیر کو جاری ایک بیان میں انہوں نے تجارت میں آسانی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل وژن، فیس لیس اسیسمنٹ اور ’پری ارائیول سہولت کے نفاذ کو سراہا۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ بہتری کے باوجود درآمدات اور برآمدات کے ریگولیٹری شعبے میں اب بھی چیلنجز موجود ہیں۔

صدر ایف پی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ اگرچہ زیادہ تر تجارت پاکستان سنگل ونڈو(پی ایس ڈبلیو) کے ذریعے ہو رہی ہے لیکن کنسائمنٹس کو اب بھی بلاوجہ لازمی معائنے کے بعد کلیئر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری محکموں میں آر ایم ایس کا نفاذ درآمد و برآمد کے عمل کو ہموار کرے گا، غیر ضروری معائنوں کو ختم کرے گا اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرے گا۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے اس حوالے سے کہا کہ فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم کے آغاز میں کچھ مشکلات تھیں لیکن چیف کلیکٹر واجد علی کی صنعت کاروں کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ مسائل حل کر لیے گئے۔ اب یہ نظام تجارت کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہو رہا ہے اور مال کی کلیئرنس کے وقت میں بھی کمی آ رہی ہے۔

Comments

Comments are closed.