نیپرا نے پروزیومر ریگولیشنز کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، نیٹ میٹرنگ نظام نیٹ بلنگ میں تبدیل
- ان نئے ضوابط کے تحت بجلی کے صارفین اور بجلی پیدا کرنے والے افراد یا اداروں کے درمیان تعلق کو ایک منظم اور باقاعدہ شراکت داری کی شکل دی گئی ہے
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پیر کے روز پروزیومر ریگولیشنز 2026 کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی ملک میں نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام سے نیٹ بلنگ کے نئے فریم ورک کی جانب منتقلی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ان نئے ضوابط کے تحت بجلی کے صارفین اور بجلی پیدا کرنے والے افراد یا اداروں کے درمیان تعلق کو ایک منظم اور باقاعدہ شراکت داری کی شکل دی گئی ہے۔
نیپرا نے اس نئے نظام پر گزشتہ جمعہ 6 فروری 2026 کو عوامی سماعت منعقد کی تھی، جس میں صنعتی اور گھریلو صارفین کے نمائندوں نے پاور ڈویژن اور نیپرا دونوں پر شدید تنقید کی اور موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام میں تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ صارفین کا کہنا تھا کہ ریگولیٹر نے غیر معمولی تیزی دکھاتے ہوئے پہلے سے تیار شدہ ضوابط کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جبکہ اس کی خودمختاری پہلے ہی سوالات کی زد میں ہے۔
نئے ریگولیشنز کے تحت پروزیومر وہ فرد یا ادارہ ہو سکتا ہے جو صاف توانائی کے ذرائع سے ایک میگاواٹ تک بجلی پیدا کرے۔ اس میں گھروں پر نصب سولر پینلز، زرعی شعبے میں بایو گیس پلانٹس اور صنعتی سطح پر ونڈ ٹربائنز شامل ہیں۔ تاہم پروزیومر بننے کے لیے محض بجلی پیدا کرنے کا نظام نصب کرنا کافی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ منظوری کے عمل سے گزرنا لازم ہوگا۔
دلچسپی رکھنے والے افراد کو سب سے پہلے اپنی متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی، یعنی لائسنس یافتہ ادارے، کو درخواست دینا ہوگی۔ لائسنس یافتہ ادارہ درخواست گزار کو رہنمائی فراہم کرنے، درخواست فارم بلا معاوضہ مہیا کرنے اور درخواست کو شفاف اور بروقت طریقے سے نمٹانے کا پابند ہوگا۔ بڑے منصوبوں کی صورت میں تکنیکی جائزہ بھی لیا جا سکے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ڈسٹری بیوشن گرڈ اضافی بجلی کو محفوظ طریقے سے سنبھال سکتا ہے۔
منظوری کے بعد نیپرا سے باضابطہ اجازت، جسے کنکرنس کہا جاتا ہے، حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ اس کے بعد پروزیومر اور لائسنس یافتہ ادارے کے درمیان پانچ سالہ معاہدہ طے پائے گا، جس میں توسیع کی گنجائش موجود ہوگی۔ بجلی کی کھپت قابل اطلاق ٹیرف پر جبکہ اضافی پیداوار قومی اوسط توانائی خریداری قیمت پر لائسنس یافتہ ادارہ خریدے گا۔ بلنگ ماہانہ بنیاد پر ہو گی اور اضافی رقم اگلے بل میں ایڈجسٹ یا سہ ماہی بنیاد پر ادا کی جائے گی۔
نیپرا ان ضوابط کے تحت نگرانی، تنازعات کے حل، معلومات طلب کرنے اور جرمانے عائد کرنے کا اختیار رکھے گا۔ نئے ضوابط کے نفاذ کے ساتھ نیپرا کے 2015 کے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز ختم کر دیے گئے ہیں، تاہم پرانے معاہدے اپنی مدت تک برقرار رہیں گے، البتہ بلنگ نیٹ بلنگ نظام کے تحت ہو گی۔ ان ضوابط کے ذریعے پاکستان کا بجلی کا نظام یک طرفہ فراہمی سے نکل کر شراکتی ماڈل کی جانب بڑھ رہا ہے، جس میں صاف توانائی کے فروغ اور صارفین کے کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments