ذاتی معالجین سے معائنہ: اے ٹی سی نے عمران خان کی درخواست مسترد کردی
- انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ہفتے کے روز پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی وہ درخواست مسترد کر دی، جس میں انہوں نے ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کرانے کی اجازت طلب کی تھی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل فیصل ملک اور خصوصی پراسیکیوٹر ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست پر دلائل دیتے ہوئے فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو دورانِ حراست اپنے ذاتی معالجین تک رسائی دی گئی تھی، لہٰذا عمران خان بھی بطور سابق وزیر اعظم مساوی سلوک کے حق دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں آنکھوں کے علاج کی مناسب سہولیات موجود نہیں ہیں اور عمران خان ایک زیرِ سماعت قیدی ہیں، اس لیے انہیں اپنے ذاتی ڈاکٹروں سے معائنہ کرانے کا حق حاصل ہے۔
وکیل صفائی نے مزید کہا کہ جیل رولز کے قاعدہ 795 کے تحت کسی بھی طبی علاج سے قبل اہل خانہ کو مطلع کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران عمران خان کو کبھی جیل سے باہر علاج کے لیے نہیں لے جایا گیا۔ فیصل ملک نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ کن غیر معمولی حالات میں انہیں رات گئے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسپتال لے جایا گیا اور عدالت سے استدعا کی کہ ذاتی معالجین کو اڈیالہ جیل میں معائنہ کی اجازت دی جائے۔
درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے خصوصی پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ عمران خان زیرِ سماعت قیدی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان ضمانت پر ہیں، اس لیے وہ سزا یافتہ قیدی نہیں بلکہ ایک ملزم ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ فوجداری عدالت کو ایسے شخص کی حراست کے انتظامات پر ہدایات دینے کا اختیار حاصل نہیں جو ضمانت پر ہو، کیونکہ یہ کوئی آئینی عدالت نہیں بلکہ فوجداری عدالت ہے۔
خصوصی پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ قیدیوں کا طبی علاج حکومت کے مقرر کردہ ڈاکٹروں کے ذریعے کیا جاتا ہے اور پاکستان جیل قوانین میں ذاتی یا نجی معالجین سے علاج کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔
عدالت نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کی درخواست مسترد کر دی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments