جولائی تا جنوری: تجارتی خسارہ 28 فیصد بڑھ کر 22 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
- جنوری میں برآمدات 3 ارب ڈالر کی سطح سے اوپر
رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ(جولائی تا جنوری)کے دوران ملکی تجارتی خسارہ 28.22 فیصد کے نمایاں اضافے کے ساتھ 22.04 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔
ادارہ شماریات کے مطابق پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے دوران ملک کا تجارتی توازن 17.19 ارب ڈالر خسارے کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث سالانہ بنیادوں پر تجارتی خسارے میں وسعت دیکھی گئی ۔

رواں مالی سال جولائی تا جنوری برآمدات 18.20 ارب ڈالر رہیں جو کہ مالی سال 2025 کے اسی عرصے میں ریکارڈ کی گئی 19.58 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 7.1 فیصد کم ہیں۔
پہلے7ماہ میں درآمدات 40.23 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کی 36.77 ارب ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں 9.42 فیصد زیادہ ہیں۔
جنوری میں برآمدات 3 ارب ڈالر کی سطح سے اوپر
جنوری 2026 میں پاکستان کی برآمدات 3.06 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو کہ جنوری 2025 میں ریکارڈ کی گئی 2.95 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 3.73 فیصد زیادہ ہیں۔
دوسری جانب جنوری 2026 میں درآمدات 5.79 ارب ڈالر رہیں جو کہ گزشتہ سال کے5.87 ارب ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں 1.41 فیصد کم ہیں۔
جنوری 2026 کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 2.72 ارب ڈالر رہا جو جنوری 2025 کے 2.92 ارب ڈالر کے مقابلے میں 6.61 فیصد کم ہے۔
ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو دسمبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 3.81 ارب ڈالر کے مقابلے میں جنوری 2026 میں پاکستان کے تجارتی خسارے میں 28.53 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
























Comments