پی آئی اے کی کامیاب نجکاری سے عالمی سرمایہ کاروں کو مثبت پیغام ملا، وزیر خزانہ
- ہم بہت سی سرمایہ کاری پاکستان آتے ہوئے دیکھیں گے، محمد اورنگزیب
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی کامیاب نجکاری نے پاکستان کی طویل عرصے سے رکی ہوئی نجکاری کی مہم میں نئی روح پھونک دی ہے، کیونکہ مقامی سرمایہ کاروں کی نمایاں دلچسپی نے غیر ملکی شراکت داروں کی توجہ حاصل کرنے اور ملک کو سرمایہ کاری کے لیے ایک قابلِ عمل منزل کے طور پر دوبارہ پیش کرنے میں مدد دی ہے۔
ڈیووس میں سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ انہوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہم منصبوں سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کو پاکستان کا دیرینہ شراکت دار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک نے نجکاری پروگرام کو سراہا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان کا نجکاری پروگرام، جو تقریباً ایک دہائی سے بڑی حد تک غیر فعال پڑا تھا، اب دوبارہ فعال ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا مشکل رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی حالیہ نجکاری نے کئی اہم اہداف پورے کیے ہیں، کیونکہ دو بڑے مقامی کاروباری گروپس کی شرکت نے عالمی سرمایہ کاروں کو ایک مضبوط پیغام بھیجا ہے۔
گزشتہ ماہ عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی سربراہی میں ایک کنسورشیم پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی خریداری کے لیے کامیاب بولی دہندہ کے طور پر سامنے آیا۔ انہوں نے 135 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی جمع کرائی، جو حکومت کی ابتدائی کم از کم قیمت 100 ارب روپے اور اس بنیادی قیمت 115 ارب روپے سے کہیں زیادہ تھی جس پر نیلامی کا آغاز ہوا تھا۔
دریں اثنا محمد اورنگزیب نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کے اس نئے اعتماد سے زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کان کنی سمیت اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے اور آنے والے وقت میں سرمایہ کاری کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مزید بہت سی سرمایہ کاری پاکستان آتے ہوئے دیکھیں گے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ورلڈ اکنامک فورم میں حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی کا محور پاکستان کے بڑے معاشی شعبوں میں موجودہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرنا اور اس کے ساتھ ممکنہ نئے سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اس سلسلے میں وزیراعظم آئی ٹی ، مصنوعی ذہانت ، کان کنی اور دیگر ترجیحی شعبوں سے وابستہ عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ گول میز ملاقاتیں کریں گے، جس میں حکومت کی جانب سے تعاون اور ہر ممکن امداد کی فراہمی کا اشارہ دیا جائے گا۔
وزیرِ خزانہ نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ماضی میں درپیش بہت سے ڈھانچہ جاتی چیلنجز کو بڑی حد تک حل کر لیا گیا ہے اور اب پاکستان زیادہ فیصلہ کن اور وسیع پیمانے پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کاروبار کے لیے (مکمل طور پر) تیار ہے۔

























Comments