ٹرمپ کے ایران کیلئے نرم بیانات، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں
- برینٹ کروڈ فیوچرز 64.85 ڈالر فی بیرل پر 2.5 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا
عالمی خام تیل کی قیمتیں جمعرات کے روز ایشیائی مارکیٹ کے آغاز میں دو فیصد سے زائد گر گئیں۔ اس کے پیچھے سب سے بڑا سبب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات ہیں، جن میں انہوں نے کہا کہ ایران میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کم ہو رہی ہیں اور بڑے پیمانے پر پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اس سے امریکہ کی طرف سے ممکنہ فوجی کارروائی اور سپلائی میں خلل کے خدشات کم ہوئے، جس کا فوری اثر قیمتوں پر پڑا۔
اس دوران برینٹ کروڈ فیوچرز 64.85 ڈالر فی بیرل پر 2.5 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 60.48 ڈالر فی بیرل پر 2.5 فیصد کم ہوا۔ بدھ کو دونوں اشاریے ایک فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ بند ہوئے تھے لیکن ٹرمپ کے بیانات کے بعد زیادہ تر اضافہ واپس ہو گیا۔
مارکیٹ کے ماہرین نے کہا کہ تیل کی قیمتوں پر دباؤ اس بات سے بھی بڑھا کہ امریکی خام تیل اور پٹرول کے ذخائر توقع سے زیادہ تھے۔ اس کے علاوہ وینزویلا نے امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے عالمی رسد میں اضافہ ہوا ہے۔
تیل کی طلب کے حوالے سے اوپیک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2026 میں عالمی سطح پر سپلائی اور طلب کے درمیان قریب توازن برقرار رہنے کا امکان ہے۔ دوسری طرف، چین کی خام تیل کی درآمدات دسمبر میں پچھلے سال کے مقابلے میں 17 فیصد بڑھ گئیں، جس سے عالمی طلب کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ جیوپولیٹیکل خطرات اب بھی موجود ہیں، اور کسی بھی غیر متوقع واقعے سے سپلائی اور طلب کا توازن متاثر ہو سکتا ہے، تاہم قلیل مدتی طور پر ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 55 سے 65 ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ مجموعی طور پر عالمی خام تیل کی مارکیٹ جیوپولیٹیکل خطرات اور سپلائی کے دباؤ کے درمیان کشیدہ رہنے کی توقع ہے، جس سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہے گا۔

























Comments
Comments are closed.