کراچی کے جزیرے زیارت حسن شاہ کی تزئین و آرائش کے لیے کروڑوں ڈالر کے منصوبے کی تیاری
- منصوبے پر 36 لاکھ سے 53 لاکھ ڈالرتک لاگت کا تخمینہ ، بی اوٹی یا پی پی پی ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا
وفاقی وزیربحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے جزیرے زیارت حسن شاہ کو ماحولیاتی سیاحت ، اسپورٹس ٹورازم اور لائف اسٹائل ریٹریٹس کے جدید مرکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے میں ماحولیاتی پائیداری اور طویل مدتی معاشی فوائد کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے گا۔
بدھ کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے پر ایک سے ڈیڑھ ارب روپے (3.6 سے 5.3 ملین ڈالر) لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہےجسے سرمایہ کاری کے لیے ترجیحی منصوبہ قرار دیا گیا ہے جس سے روزگار کے بڑے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ منصوبے کی وسعت اور لاگت کے پیشِ نظر تعمیراتی مرحلے کے دوران تقریباً 1,000 سے 1,500 براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی، جبکہ آپریشنز شروع ہونے کے بعد 1,200 سے 1,800 مستقل ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے مقامی لوگوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی اور ساحلی معیشت کو فروغ ملے گا۔
جزیرہ زیارت حسن شاہ کراچی کے مشرقی زون کے قریب واقع ہے جس کی لمبائی تقریباً چار کلومیٹر اور چوڑائی 100 سے 500 میٹر کے درمیان ہے۔ وزیر بحری امور کے مطابق اس کا جنوب مشرقی ریتیلا ساحل ہوٹلنگ، تفریحی اور فرصت کی سرگرمیوں کے لیے بہترین صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا جزیرے کی قدرتی خوبصورتی اور ساحلی ماحول پاکستان میں بڑھتی ہوئی ساحلی سیاحت کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایک منفرد موقع فراہم کرتے ہیں۔
وزارت کے مطابق دیگر سمندری منصوبوں کے برعکس یہ جزیرہ زمین کے ذریعے قابلِ رسائی ہے، جس کی وجہ سے اسے کراچی کے موجودہ سڑکوں کے نیٹ ورک سے براہِ راست منسلک کیا جا سکتا ہے۔ اس رسائی سے نہ صرف انفرااسٹرکچر کی لاگت کم ہوگی اور ترقیاتی کام تیز ہوگا بلکہ مقامی کاروبار کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
منصوبے کو تعمیر کرو، چلاؤ اور منتقل کرو(بی اوٹی) یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ حکومت ایسے نجی سرمایہ کاروں کی تلاش میں ہے جو ہوٹلنگ، سیاحت اور تفریحی منصوبوں کا تجربہ رکھتے ہوں۔
پاکستان کی ایک ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ساحلی پٹی کا بڑا حصہ غیر استعمال شدہ ہے اور حکومت بحری شعبے کو معاشی ترقی کے کلیدی انجن کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی بلیو اکانومی کو مضبوط بنانے اور تجارت و سرمایہ کاری کے وسیع تر ساحلی اقدامات کا حصہ ہے۔

























Comments
Comments are closed.