BR100 Decreased By (-0.15%)
BR30 Decreased By (-0.44%)
KSE100 Decreased By (-0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.01%)
BAFL 56.48 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
BIPL 24.76 Increased By ▲ 0.13 (0.53%)
BOP 29.95 Decreased By ▼ -0.17 (-0.56%)
CNERGY 12.78 Decreased By ▼ -0.20 (-1.54%)
DFML 18.22 Increased By ▲ 0.73 (4.17%)
DGKC 188.01 Increased By ▲ 0.79 (0.42%)
FABL 93.30 Decreased By ▼ -0.41 (-0.44%)
FCCL 51.67 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.85 Decreased By ▼ -0.19 (-1%)
HBL 303.00 Decreased By ▼ -0.78 (-0.26%)
HUBC 199.50 Increased By ▲ 0.54 (0.27%)
HUMNL 9.73 Decreased By ▼ -0.12 (-1.22%)
KEL 6.02 Decreased By ▼ -0.04 (-0.66%)
LOTCHEM 26.26 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
MLCF 91.20 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
OGDC 314.80 Increased By ▲ 1.41 (0.45%)
PAEL 34.99 Decreased By ▼ -0.25 (-0.71%)
PIBTL 14.30 Decreased By ▼ -0.41 (-2.79%)
PIOC 238.00 Decreased By ▼ -1.62 (-0.68%)
PPL 220.09 Decreased By ▼ -1.27 (-0.57%)
PRL 90.30 Decreased By ▼ -0.92 (-1.01%)
SNGP 91.11 Increased By ▲ 0.24 (0.26%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.09 (-0.39%)
TELE 7.43 Decreased By ▼ -0.18 (-2.37%)
TPLP 12.15 Decreased By ▼ -0.41 (-3.26%)
TRG 54.60 Decreased By ▼ -1.19 (-2.13%)
UNITY 7.97 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)
کاروبار اور معیشت

پاپام کا آٹو فنانسنگ پر 30 لاکھ روپے کی حد ختم کرنے کا مطالبہ

  • گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ، مقامی سپلائی چین مستحکم، شعبے میں وسعت کے امکانات پیدا ہوں گے، ایسوسی ایشن
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کار فنانسنگ (گاڑیوں کے لیے قرضے) پر عائد 30 لاکھ روپے کی حد کو ختم کیا جائے۔ ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ یہ پابندی صارفین کی طلب کو محدود کررہی ہے اور مقامی آٹو موٹیو صنعت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

آٹو ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ فنانسنگ (قرضوں) کی شرائط میں نرمی سے گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوگا، مقامی سپلائی چین مستحکم ہوگی اور اس شعبے میں وسعت کے امکانات پیدا ہوں گے۔

ہفتہ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ پیش رفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کے پاپام کے بن قاسم آٹو موٹیو کلسٹر کے دورے کے موقع پر سامنے آئی۔

دورے کے دوران وفاقی وزیر نے ٹیکنو آٹو گلاس فیکٹری اور پاک سوزوکی موٹر کمپنی کی اہم پیداواری سہولیات بشمول پریس شاپ، انجیکشن مولڈنگ، انجن اور ٹرانسمیشن یونٹس کا معائنہ کیا۔ انہیں پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری اور انڈسٹریلائزیشن یعنی مقامی وسائل کے استعمال کے لیے جاری کوششوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

جام کمال خان نے پیداوار کے معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عالمی معیار کے آٹوموٹیو پارٹس تیار ہوتے دیکھ کر دل خوش ہوا۔ انہوں نے پاپام کی جی ڈی پی میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جدید ٹیکنالوجیز کے حصول میں مثبت کردار کو سراہا اور اس شعبے کو اقتصادی سرگرمیوں کا اہم محرک قرار دیا۔

وفاقی وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں مقامی طور پر تیار شدہ گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں بہتری آئے گی، خاص طور پر حکومت کی ان پالیسیوں کی بدولت جن کا مقصد پرانی (استعمال شدہ) گاڑیوں کی درآمد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ پاپام کے نمائندوں نے ان اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان سے مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

مستقبل کے امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ مقامی کار کی پیداوار جو دو لاکھ یونٹس سے کم ہے، اسے بڑھا کر 50 لاکھ سے ایک لاکھ یونٹس تک لے جایا جاسکتا ہے جس سے نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ مقامی طور پر تیار شدہ گاڑیوں کی فروخت بڑھانے کے لیے آٹو فنانسنگ سہولتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

Comments

Comments are closed.