BR100 Increased By (0.05%)
BR30 Decreased By (-0.02%)
KSE100 Increased By (0.53%)
KSE30 Increased By (0.58%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.21 (0.36%)
BIPL 25.10 Decreased By ▼ -0.10 (-0.4%)
BOP 34.30 Increased By ▲ 0.31 (0.91%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.09 (1.11%)
DFML 20.80 Decreased By ▼ -0.04 (-0.19%)
DGKC 196.00 Increased By ▲ 3.03 (1.57%)
FABL 90.17 Increased By ▲ 0.38 (0.42%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.77 (1.46%)
FFL 18.10 Increased By ▲ 0.15 (0.84%)
GGL 19.12 Increased By ▲ 0.15 (0.79%)
HBL 286.25 Increased By ▲ 0.75 (0.26%)
HUBC 215.00 Increased By ▲ 0.62 (0.29%)
HUMNL 10.98 Increased By ▲ 0.10 (0.92%)
KEL 8.07 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
LOTCHEM 28.00 Increased By ▲ 0.11 (0.39%)
MLCF 87.50 Increased By ▲ 0.99 (1.14%)
OGDC 322.40 Increased By ▲ 2.44 (0.76%)
PAEL 39.60 Increased By ▲ 0.18 (0.46%)
PIBTL 16.76 Increased By ▲ 0.09 (0.54%)
PIOC 265.00 Decreased By ▼ -1.06 (-0.4%)
PPL 229.63 Increased By ▲ 1.45 (0.64%)
PRL 34.87 Increased By ▲ 0.19 (0.55%)
SNGP 99.10 Decreased By ▼ -0.08 (-0.08%)
SSGC 26.94 Increased By ▲ 0.34 (1.28%)
TELE 8.38 Increased By ▲ 0.10 (1.21%)
TPLP 8.36 Increased By ▲ 0.14 (1.7%)
TRG 70.50 Increased By ▲ 0.79 (1.13%)
UNITY 11.78 Increased By ▲ 0.11 (0.94%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
کاروبار اور معیشت

پاپام کا آٹو فنانسنگ پر 30 لاکھ روپے کی حد ختم کرنے کا مطالبہ

  • گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ، مقامی سپلائی چین مستحکم، شعبے میں وسعت کے امکانات پیدا ہوں گے، ایسوسی ایشن
شائع January 10, 2026 اپ ڈیٹ January 10, 2026 01:52pm

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کار فنانسنگ (گاڑیوں کے لیے قرضے) پر عائد 30 لاکھ روپے کی حد کو ختم کیا جائے۔ ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ یہ پابندی صارفین کی طلب کو محدود کررہی ہے اور مقامی آٹو موٹیو صنعت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

آٹو ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ فنانسنگ (قرضوں) کی شرائط میں نرمی سے گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوگا، مقامی سپلائی چین مستحکم ہوگی اور اس شعبے میں وسعت کے امکانات پیدا ہوں گے۔

ہفتہ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ پیش رفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کے پاپام کے بن قاسم آٹو موٹیو کلسٹر کے دورے کے موقع پر سامنے آئی۔

دورے کے دوران وفاقی وزیر نے ٹیکنو آٹو گلاس فیکٹری اور پاک سوزوکی موٹر کمپنی کی اہم پیداواری سہولیات بشمول پریس شاپ، انجیکشن مولڈنگ، انجن اور ٹرانسمیشن یونٹس کا معائنہ کیا۔ انہیں پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری اور انڈسٹریلائزیشن یعنی مقامی وسائل کے استعمال کے لیے جاری کوششوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

جام کمال خان نے پیداوار کے معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عالمی معیار کے آٹوموٹیو پارٹس تیار ہوتے دیکھ کر دل خوش ہوا۔ انہوں نے پاپام کی جی ڈی پی میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جدید ٹیکنالوجیز کے حصول میں مثبت کردار کو سراہا اور اس شعبے کو اقتصادی سرگرمیوں کا اہم محرک قرار دیا۔

وفاقی وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں مقامی طور پر تیار شدہ گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں بہتری آئے گی، خاص طور پر حکومت کی ان پالیسیوں کی بدولت جن کا مقصد پرانی (استعمال شدہ) گاڑیوں کی درآمد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ پاپام کے نمائندوں نے ان اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان سے مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

مستقبل کے امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ مقامی کار کی پیداوار جو دو لاکھ یونٹس سے کم ہے، اسے بڑھا کر 50 لاکھ سے ایک لاکھ یونٹس تک لے جایا جاسکتا ہے جس سے نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ مقامی طور پر تیار شدہ گاڑیوں کی فروخت بڑھانے کے لیے آٹو فنانسنگ سہولتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

Comments

200 حروف