BR100 Decreased By (-1%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.95%)
KSE30 Decreased By (-1.02%)
BAFL 55.51 Increased By ▲ 0.30 (0.54%)
BIPL 23.97 Decreased By ▼ -0.20 (-0.83%)
BOP 27.30 Decreased By ▼ -0.62 (-2.22%)
CNERGY 12.40 Increased By ▲ 0.05 (0.4%)
DFML 15.79 Decreased By ▼ -0.39 (-2.41%)
DGKC 175.58 Decreased By ▼ -2.63 (-1.48%)
FABL 90.01 Decreased By ▼ -0.40 (-0.44%)
FCCL 49.65 Decreased By ▼ -0.37 (-0.74%)
FFL 13.36 Decreased By ▼ -0.27 (-1.98%)
GGL 18.69 Decreased By ▼ -0.26 (-1.37%)
HBL 283.26 Decreased By ▼ -2.49 (-0.87%)
HUBC 187.86 Decreased By ▼ -2.78 (-1.46%)
HUMNL 8.05 Decreased By ▼ -0.24 (-2.9%)
KEL 5.55 Decreased By ▼ -0.08 (-1.42%)
LOTCHEM 23.04 Decreased By ▼ -0.89 (-3.72%)
MLCF 86.63 Decreased By ▼ -0.91 (-1.04%)
OGDC 298.12 Decreased By ▼ -2.38 (-0.79%)
PAEL 32.05 Decreased By ▼ -0.72 (-2.2%)
PIBTL 12.55 Decreased By ▼ -0.31 (-2.41%)
PIOC 224.17 Decreased By ▼ -3.51 (-1.54%)
PPL 210.17 Decreased By ▼ -4.03 (-1.88%)
PRL 94.52 Decreased By ▼ -0.60 (-0.63%)
SNGP 90.13 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
SSGC 22.52 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 6.66 Decreased By ▼ -0.08 (-1.19%)
TPLP 11.51 Increased By ▲ 0.23 (2.04%)
TRG 52.54 Decreased By ▼ -2.19 (-4%)
UNITY 7.62 Decreased By ▼ -0.07 (-0.91%)
WTL 0.89 Decreased By ▼ -0.01 (-1.11%)
پاکستان

عام آدمی کے لیے گھر کا خواب: نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کی تیاری آخری مراحل میں

  • پالیسی کو جلد وفاقی کابینہ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے
شائع اپ ڈیٹ

ملک بھر میں مکانات کی بڑھتی ہوئی قلت کو دور کرنے کیلئے وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے جلد ہی وفاقی کابینہ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ پالیسی تمام متعلقہ فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کی مشاورت اور ٹھوس شواہد پر مبنی نقطہ نظر کے تحت تیار کی گئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار نیشنل ہاؤسنگ پالیسی ورکنگ گروپ کے کوآرڈینیٹر اور وفاقی گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے چیف پلانر ڈاکٹر ملک اصغر نعیم نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی: سب کے لیے سستی، ہمہ گیر اور پائیدار پناہ گاہ کا فریم ورک کے عنوان سے اس سیمینار کا اہتمام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے کیا تھا۔

ڈاکٹر نعیم نے رہائش کو ایک بنیادی انسانی حق اور مشترکہ قومی ذمہ داری قرار دیا۔ پاکستان میں رہائش کے بحران کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے اور بڑھتے ہوئے شہری پھیلاؤ کے نتیجے میں تقریباً 90 لاکھ سے ایک کروڑ (9-10 ملین) مکانات کی قلت پیدا ہوچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہری آبادی کا تقریباً 50 فیصد حصہ اب کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔

کمزور طبقات، بالخصوص کم اور متوسط آمدنی والے گھرانے، سستی رہائش تک محدود رسائی، ہاؤسنگ فنانس (قرضہ جات) کی کمی، ریگولیٹری خامیوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث غیر متناسب طور پر متاثر ہورہے ہیں۔ اس نشست کی نظامت پائیڈ کے اسسٹنٹ چیف (پالیسی) اسامہ عبدالرؤف نے کی، جس میں پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم، محققین اور پیشہ ور افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے مکانات کی قلت کی ساختی وجوہات کا جائزہ لیا اور سب کی شمولیت پر مبنی پائیدار ہاؤسنگ کی ترقی کے راستے تلاش کیے۔

ہاؤسنگ پالیسی کے بنیادی مقاصد اور حکمت عملیوں میں سب کی شمولیت اور سستی رہائش کو یقینی بنانا شامل ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقات تک رسائی ممکن ہو سکے اور رہائش کو ایک بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس کے علاوہ، پائیدار شہری ترقی کے تحت زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے عمودی تعمیرات اور گنجان آباد ڈیزائن کو فروغ دینا، کچی آبادیوں کی حالت زار بہتر بنانا، شہروں کی ازسرِ نو ترتیب اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والے ماحول دوست اور مضبوط ہاؤسنگ انفرااسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔

سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ انسانی حقوق کے عالمی منشو کے آرٹیکل 25 کے تحت رہائش کو ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور پاکستان اس منشور پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

Comments are closed.