BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.81%)
KSE100 Decreased By (-1.01%)
KSE30 Decreased By (-1.06%)
BAFL 56.59 Decreased By ▼ -0.14 (-0.25%)
BIPL 26.82 Decreased By ▼ -0.16 (-0.59%)
BOP 33.22 Decreased By ▼ -0.53 (-1.57%)
CNERGY 10.04 Increased By ▲ 0.16 (1.62%)
DFML 17.94 Decreased By ▼ -0.06 (-0.33%)
DGKC 197.93 Decreased By ▼ -7.00 (-3.42%)
FABL 99.00 Decreased By ▼ -1.10 (-1.1%)
FCCL 51.80 Decreased By ▼ -1.29 (-2.43%)
FFL 16.20 Decreased By ▼ -0.32 (-1.94%)
GGL 25.05 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
HBL 298.44 Decreased By ▼ -1.38 (-0.46%)
HUBC 214.96 Decreased By ▼ -2.12 (-0.98%)
HUMNL 10.40 Decreased By ▼ -0.21 (-1.98%)
KEL 7.16 Decreased By ▼ -0.06 (-0.83%)
LOTCHEM 29.05 Decreased By ▼ -0.26 (-0.89%)
MLCF 89.00 Decreased By ▼ -3.16 (-3.43%)
OGDC 314.00 Decreased By ▼ -2.29 (-0.72%)
PAEL 41.03 Decreased By ▼ -1.01 (-2.4%)
PIBTL 16.10 Decreased By ▼ -0.31 (-1.89%)
PIOC 287.00 Decreased By ▼ -13.24 (-4.41%)
PPL 213.90 Decreased By ▼ -2.94 (-1.36%)
PRL 51.80 Increased By ▲ 0.94 (1.85%)
SNGP 99.69 Decreased By ▼ -2.03 (-2%)
SSGC 25.45 Decreased By ▼ -1.53 (-5.67%)
TELE 8.26 Decreased By ▼ -0.39 (-4.51%)
TPLP 13.20 Decreased By ▼ -0.19 (-1.42%)
TRG 57.28 Decreased By ▼ -1.98 (-3.34%)
UNITY 10.10 Decreased By ▼ -0.20 (-1.94%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

عام آدمی کے لیے گھر کا خواب: نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کی تیاری آخری مراحل میں

  • پالیسی کو جلد وفاقی کابینہ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے
شائع اپ ڈیٹ

ملک بھر میں مکانات کی بڑھتی ہوئی قلت کو دور کرنے کیلئے وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے جلد ہی وفاقی کابینہ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ پالیسی تمام متعلقہ فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کی مشاورت اور ٹھوس شواہد پر مبنی نقطہ نظر کے تحت تیار کی گئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار نیشنل ہاؤسنگ پالیسی ورکنگ گروپ کے کوآرڈینیٹر اور وفاقی گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے چیف پلانر ڈاکٹر ملک اصغر نعیم نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی: سب کے لیے سستی، ہمہ گیر اور پائیدار پناہ گاہ کا فریم ورک کے عنوان سے اس سیمینار کا اہتمام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے کیا تھا۔

ڈاکٹر نعیم نے رہائش کو ایک بنیادی انسانی حق اور مشترکہ قومی ذمہ داری قرار دیا۔ پاکستان میں رہائش کے بحران کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے اور بڑھتے ہوئے شہری پھیلاؤ کے نتیجے میں تقریباً 90 لاکھ سے ایک کروڑ (9-10 ملین) مکانات کی قلت پیدا ہوچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہری آبادی کا تقریباً 50 فیصد حصہ اب کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔

کمزور طبقات، بالخصوص کم اور متوسط آمدنی والے گھرانے، سستی رہائش تک محدود رسائی، ہاؤسنگ فنانس (قرضہ جات) کی کمی، ریگولیٹری خامیوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث غیر متناسب طور پر متاثر ہورہے ہیں۔ اس نشست کی نظامت پائیڈ کے اسسٹنٹ چیف (پالیسی) اسامہ عبدالرؤف نے کی، جس میں پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم، محققین اور پیشہ ور افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے مکانات کی قلت کی ساختی وجوہات کا جائزہ لیا اور سب کی شمولیت پر مبنی پائیدار ہاؤسنگ کی ترقی کے راستے تلاش کیے۔

ہاؤسنگ پالیسی کے بنیادی مقاصد اور حکمت عملیوں میں سب کی شمولیت اور سستی رہائش کو یقینی بنانا شامل ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقات تک رسائی ممکن ہو سکے اور رہائش کو ایک بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس کے علاوہ، پائیدار شہری ترقی کے تحت زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے عمودی تعمیرات اور گنجان آباد ڈیزائن کو فروغ دینا، کچی آبادیوں کی حالت زار بہتر بنانا، شہروں کی ازسرِ نو ترتیب اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والے ماحول دوست اور مضبوط ہاؤسنگ انفرااسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔

سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ انسانی حقوق کے عالمی منشو کے آرٹیکل 25 کے تحت رہائش کو ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور پاکستان اس منشور پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

Comments are closed.