پاکستان کی پہلی شپ ری سائیکلنگ سہولت کا افتتاح، عالمی سرٹیفیکیشن تاریخی کامیابی قرار
- یہ کامیابی پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور میری ٹائم شعبے میں سنہری باب کی حیثیت رکھتی ہے، جنید انوار
پاکستان کی میری ٹائم تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ملک کا پہلا ہانگ کانگ کنونشن کمپلائنٹ شپ ری سائیکلنگ یارڈ باضابطہ طور پر فعال ہوگیا۔
اس موقع پرمنعقدہ تقریب سےخطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور میری ٹائم شعبے میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گڈانی ماضی میں دنیا کےبڑے شپ بریکنگ مراکز میں شمار ہوتا تھا، تاہم وقت کے ساتھ یہ صنعت زوال کا شکار ہوئی، اب حکومت نے شپ بریکنگ کے شعبے کو دوبارہ زندہ کرنے کا عملی آغاز کر دیا ہے اور تمام بین الاقوامی معیار کے مطابق اس صنعت کو مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پرانے طرزِ فکر اور روایتی طریقوں کے ساتھ عالمی منڈی میں مقابلہ ممکن نہیں، اس لیے جدید، محفوظ اور ماحول دوست طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پرائم گرین ری سائیکلرز کا ہانگ کانگ کنونشن کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا دیگر پاکستانی کمپنیوں کے لیے ایک مثال ہے، ان کے مطابق پاکستان اب انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوچکا ہے اور ماحول دوست شپ ری سائیکلنگ کے عالمی معیار پر پورا اتر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ بحری امور نے میری ٹائم شعبے میں اصلاحات کا عملی آغاز کر دیا ہے اور گڈانی شپ ری سائیکلنگ زون کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت سی ٹو اسٹیل منصوبے پر بھی کام کررہی ہے جبکہ پورٹ قاسم پر شپ بریکنگ اور ری سائیکلنگ کے لیے جگہ موجود ہے جہاں عملی پیشرفت ہورہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شپ ری سائیکلنگ میں کارکنوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور پاکستان شپ بریکرزایسوسی ایشن صنعت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
جنید انوار چوہدری کے مطابق جدید شپ ری سائیکلنگ صنعت سے ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اب عالمی شپ ری سائیکلنگ انڈسٹری میں ایک ذمہ دار ملک کے طور پر ابھر رہا ہےاور حکومت کا ہدف پاکستان کو خطے کا پائیدار اور محفوظ میری ٹائم لیڈر بنانا ہے،انکے مطابق میری ٹائم شعبے کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ دن اس لیے بھی اہم ہے کہ ہانگ کانگ کنونشن کی حامل پہلی پاکستانی کمپنی سرٹیفائیڈ ہوئی ہے جس کے بعد دیگر پاکستانی کمپنیاں بھی خود کو اپ گریڈ کریں گی اور عالمی معیار حاصل کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ 2030 تک بڑی تعداد میں جہاز گرین فیول پر منتقل ہوں گے اور بعد ازاں یہی جہاز شپ ری سائیکلنگ کے لیے آئیں گے، جنہیں حاصل کر کے پاکستان اپنی شپ بریکنگ انڈسٹری کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر سکتا ہے۔























Comments
Comments are closed.