وفاقی چیمبر کی سولر نیٹ میٹرنگ ریٹ میں کمی پر تنقید، نئی سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ
- کاروباری طبقہ مایوس، لوگ ہائیبرڈ پرچلے جائیں گے، امان پراچہ
وفاقی چیمبر کے نائب صدرامان پراچہ نے حکومت کے سولر نیٹ میٹرنگ ریٹ 29 روپے سے کم کر کے 11 روپے کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اس اقدام سے ملک میں نئی سرمایہ کاری پر شدید اثر پڑے گا۔
امان پراچہ نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک طرف ملک میں ہونے والی نئی سرمایہ کاری بری طرح سے متاثر ہوگی بلکہ کاروباری طبقہ مایوس ہوگا اور ان کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ضائع ہوسکتی ہے جبکہ لوگ ہائیبرڈ پرچلے جائیں گے اور جوبجلی استعمال ہورہی ہے اس سے بھی انہیں ہاتھ دھونا پڑیں گے۔
امان پراچہ نے کہا کہ سولر صارفین قوانین 2025 کا نام دے کر نیپرا نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد وزارت توانائی نے منظوری دی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی بزنس کمیونٹی کے سب سے بڑے نمائندہ ادارے ایف پی سی سی آئی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور تمام سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا جو کہ سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہاکہ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ نظام متعارف کروا نے کے نام پرصارفین سے سولر معاہدے کی مدت 7 سال سے کم ہو کر 5 سال کی گئی جبکہ نیٹ میٹرنگ صارف کو 22 کے بجائے 10 روپے ادائیگی کی تجویزبھی دی گئی ہے جو ناقابل برداشت ہوگی، اس طرح سے نئی سولر پالیسی میں نیٹ میٹرنگ کے فائدہ ختم ہوجائے گا۔
امان پراچہ نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ میں سولر صارف 25 روپے 98 پیسے فی یونٹ قیمت کا فائدہ لیتا تھا جبکہ آئندہ 25 کلو واٹ سے کم لوڈ کا لائسنس نیپرا سے لینا لازم ہوگا، پہلے گھریلو، صنعتی، کمرشل صارفین 25 کلو واٹ تک کو لائسنس سے استنثنیٰ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ گرڈ کواگر اتنی ہی بجلی واپس کر دی جاتی جتنی آپ استعمال کرتے تھے تو بجلی کا بل عملی طور پر صفر ہو سکتا تھا، اس نظام میں اپنی بجلی خود استعمال بھی کر رہے ہوتے تھے اور اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کر کے فائدہ بھی اٹھاتے تھے،اسی وجہ سے پرانا نیٹ میٹرنگ نظام مالی طور پر فائدہ مند اور منافع بخش بھی تھا۔
نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ حکومت نے خود گرین انرجی کی جانب منتقلی کی پالیسی متعارف کرائی جس کے تحت بزنس کمیونٹی نے بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے سولر اور دیگر متبادل توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ لگایا تاہم اب سولر نیٹ میٹرنگ کی قیمت 29 روپے سے کم کرکے 11 روپے کرنے کا فیصلہ کاروباری طبقے کی سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچائے گا اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
امان پراچہ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی نے ہمیشہ سے ہی یہ آواز اٹھائی ہے کہ حکومت پالیسی کا تسلسل لائے، کیونکہ اگر پالیسی کا تسلسل نہ ہوگا تو تو اس وقت تک سرمایہ کاری بھی نہیں ہوپائے گی اور کوئی بھی پالیسی کا اعلان ہوتو اس میں کوئی تبدیلی نہ لائی جائے تاکہ مذکورہ پالیسی کے بہتر نتائج مل سکیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026






















Comments