نیپرا کے پروزیومر ریگولیشنز 2025 کے مجوزہ مسودے میں ترامیم کا مقصد چھتوں پر سولر لگانے والے صارفین کو دی جانے والی قیمت (ٹیرف) کو 25.98 روپے سے کم کر کے9.67 روپے فی کلو واٹ آور کرنا ہے۔ یہ اقدام وزیراعظم کی ان ہدایات کے باوجود اٹھایا جا رہا ہے جن میں گرین انرجی اور خاص طور پر سولر تنصیبات کی حوصلہ شکنی سے منع کیا گیا تھا۔ان ہدایات کے باوجود گزشتہ بجٹ میں کسٹمز ڈیوٹی کی شکل میں 10 فیصد لیوی بھی عائد کی گئی تھی۔
اس ریگولیشن کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں صارفین کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے
-
سولر آئی پی پیز: یہ عام طور پر 25 سالہ معاہدوں پر محیط ہیں اور اوسطاً 26.73 روپے فی یونٹ ٹیرف وصول کر رہے ہیں جو ڈالر میں ادا کیا جاتا ہے اور اسے حکومتی ضمانت حاصل ہے۔ یہ طبقہ اس ریگولیشن سے متاثر نہیں ہوگا۔
-
صنعتی شعبہ: صنعتیں اپنی توانائی کی کل لاگت کم کرنے کے لیے سولر لگاتی ہیں اور اپنی ضرورت کا 40 فیصد تک سولر پر منتقل کرتی ہیں۔ یہ طبقہ بھی متاثر نہیں ہوگا کیونکہ یہ بجلی ایکسپورٹ کرنے کے بجائے اپنی تمام پیدا کردہ بجلی خود استعمال کر لیتے ہیں۔
-
رہائشی صارفین : اصل متاثرہ طبقہ گھروں کی چھتوں پر سولر لگانے والے صارفین ہیں جو ملک میں کل سولر تنصیبات کا ایک بہت ہی معمولی حصہ ہیں۔
-
امتیازی سلوک کا سوال: اس بہت چھوٹے سے گروہ کو بھی وہی ٹیرف کیوں نہیں دیا جا رہا ہے جو سولر آئی پی پیز کو اوسطاً 26.73 روپے دیا جا رہا ہے؟ یہ امتیازی سلوک کیوں؟
اس ریگولیشن کے رہائشی صارفین پراثرات کا خلاصہ درج ذیل ہے

1.بیٹری اسٹوریج کی قیمتیں نمایاں طور پر کم ہوئی ہیں۔ 15 روپے سے کم ٹیرف پر صارفین گرڈ کے بجائے آف گرڈ بیٹری سلوشنز پر منتقل ہو جائیں گے، اس کے سدِباب کے لیے نیپرا شاید اگلے قدم کے طور پر سولر آلات کی درآمد پر پابندی کی تجویز دے، جب دنیا ماحول دوست ہو رہی ہے، ہم الٹی سمت میں جا رہے ہیں۔
2.کم ٹیرف سے لاگت کی واپسی کا دورانیہ طویل ہو جائے گا جس سے متبادل توانائی میں مستقبل کی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
3.شمسی توانائی درآمدی ایندھن کا ایک بہترین متبادل ہے۔
4.یہ تمام اقدامات مروجہ حکومتی پالیسی کے بالکل برعکس ہیں۔
مجوزہ مسودے کی دفعہ 14 نیٹ بلنگ ارینجمنٹ کی تعریف اس طرح کرتی ہے کہ نیٹ بلنگ ارینجمنٹ سے مراد ایسا انتظام ہے جس کے تحت پروزیومر کی ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن سہولت سے پیدا ہونے والی بجلی لائسنس ہولڈر خریدتا ہے اور لائسنس ہولڈر صارف کے استعمال پر متعلقہ ٹیرف کے مطابق بل جاری کرتا ہے جس میں صارف کی طرف سے لائسنس ہولڈر کو فراہم کردہ بجلی کا کریڈٹ قومی اوسط خریداری قیمت کے حساب سے دیا جاتا ہے۔ مسودے کا آغاز تمام استعمال شدہ اصطلاحات کی تعریف سے ہوتا ہے سوائے قومی اوسط خریداری قیمت کی تعریف کے اور یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے ،تاکہ اس ریگولیشن کے اصل مقصد کو چھپایا جا سکے۔
قومی اوسط خریداری قیمت کیا ہے؟ میری سمجھ کے مطابق یہ تمام توانائی کے ذرائع کی اوسط ایندھن کی قیمت جو کہ 9 روپے 8 پیسے ہے اور آپریشن و مینٹیننس کے اخراجات جو کہ 59 پیسے ہیں ان کا مجموعہ ہے جو کل 9 روپے 67 پیسے بنتا ہے۔ تصوراتی طور پر شمسی توانائی میں ایندھن کا کوئی خرچہ نہیں ہوتا تو پھر ریگولیٹرز نے نیٹ میٹرنگ صارفین کو ادائیگی کے لیے ایندھن کی قیمت کو ہی بنیاد کے طور پر کیوں منتخب کیا؟ جواب سادہ ہے کہ ریگولیٹر دراصل سولہ روپے بتیس پیسے کے کپیسٹی چارجز کا بوجھ چھتوں پر سولر لگانے والے صارفین پر منتقل کر رہا ہے۔

9 روپے 67 پیسے اور 16 روپے 32 پیسے کا مجموعہ 25 روپے 98 پیسے بنتا ہے جو کہ موجودہ قومی اوسط خریداری قیمت ہے جس پر ابھی خریداریاں کی جا رہی ہیں۔
یہ ریگولیشن کیوں ضروری ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل قصوروار آئی پی پیز ہیں جو ناقابلِ تسخیر ہیں اور بہت زیادہ سیاسی و بیوروکریٹک اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ لہٰذا اگلا آپشن صرف ان لوگوں کو نچوڑنا ہے جو سب سے کم مزاحمت کر سکتے ہیں یا جن کے پاس اختیارات نہیں۔ یہاں تک کہ نیپرا کے موجودہ سات سالہ لائسنس ہولڈرز کو بھی اس ترمیمی مسودے میں نہیں بخشا گیا۔ میں اس سلسلے میں مجوزہ ریگولیشنز کی دفعہ 21(2) کا حوالہ دیتا ہوں جس میں درج ہے کہ سوائے اس کے کہ بلنگ کا عمل ان ریگولیشنز کے نافذ ہونے کے اگلے مہینے کے بلنگ سائیکل سے دفعہ 14 کے مطابق ہوگا۔ یہ الفاظ نیپرا کے سات سالہ لائسنس یافتہ صارفین کے ساتھ براہِ راست تصادم میں ہیں جن کے حقوق کا تحفظ 2015 کی نیٹ میٹرنگ گائیڈ لائنز کے مطابق لازمی ہے۔ اس کی بہتر وضاحت ایک ایسی مثال سے کی جا سکتی ہے جہاں گرڈ کو کل ایکسپورٹ 120 کلو واٹ آور ہو۔
یہ ریگولیشن کیا حاصل کرے گی؟ یہ بہت ہی کم نتائج حاصل کرے گی کیونکہ چھتوں پر لگی شمسی توانائی کل نصب شدہ سولر صلاحیت کا صرف 5 سے 6 فیصد بنتی ہے۔ گرڈ پر واپس آنے کے بجائے اس کا بالکل الٹ ہوگا اور لوگ بیٹری اسٹوریج والے آف گرڈ سلوشنز پر منتقل ہو جائیں گے۔ یہ ایک سنگین سوال پیدا کرتا ہے کہ ایک ایسی غیر مقبول ریگولیشن لانے کی کیا ضرورت تھی جس سے وزیراعظم تک کو شامل ہونا پڑا اور جس کا فائدہ بھی نہایت معمولی ہے۔ سوال یہ ہے کہ انصاف کا تقاضا کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ چھتوں پر شمسی توانائی پیدا کرنے والوں کو بھی وہی اوسط قیمت ادا کریں جو آپ سولر آئی پی پیز کو دیتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026






















Comments