پنجاب حکومت نے بسنت 2026 کے انعقاد کے لیے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا
- بسنت 6 سے 8 فروری تک لاہور میں منائی جائے گی
لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے سخت حفاظتی اور ضابطہ جاتی اقدامات کے تحت 6 سے 8 فروری 2026 تک بسنت منانے کی باقاعدہ اجازت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا کے مطابق پتنگ بازی کی اجازت صرف لاہور کی ضلعی حدود میں اور مقررہ تاریخوں کے دوران ہوگی، جبکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز ( ایس او پیز) نافذ کیے گئے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت پتنگ اور ڈور تیار کرنے والوں اور فروخت کنندگان کے لیے ای بیز( e-Biz) ایپ کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن فعال کر دی گئی ہے۔ پتنگ بازی کے سامان کی فروخت یکم فروری سے 8 فروری تک کی جا سکے گی، جبکہ رجسٹرڈ کاروباری ادارے 30 دسمبر سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر سکیں گے۔
نوٹیفکیشن کے تحت نائیلون، پلاسٹک، دھاتی تار اور چرخیاں جیسے خطرناک مواد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ موٹر سائیکلوں پر حفاظتی تار (سیفٹی وائر) لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پتنگ اور ڈور کے سائز کی حدیں بھی مقرر کی گئی ہیں، اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد برسوں کی پابندیوں کے بعد بسنت کے ثقافتی تہوار کو محفوظ اور منظم انداز میں بحال کرنا ہے۔
یہ پیش رفت اس کے چند ہفتے بعد سامنے آئی ہے جب صوبائی حکومت نے پنجاب پتنگ بازی آرڈیننس 2025 نافذ کیا تھا، جس کے ذریعے صوبے کے روایتی پتنگ بازی کے تہوار بسنت کی واپسی کی باضابطہ راہ ہموار کی گئی۔
حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس پیش رفت کا اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک سرکاری پوسٹ کے ذریعے کیا۔
پوسٹ میں لکھا گیا:” بسنت 25 سال بعد واپس آ گئی ہے۔“
صوبائی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے بھی فیس بک پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پتنگ بنانے اور فروخت کرنے کے لیے رجسٹریشن لازمی ہے اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں 3 سے 5 سال قید اور 2 ملین روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔






















Comments