پاکستان کی صفِ اول کی ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کمپنیوں میں سے ایک بلیو ایکس لمیٹڈ نے اپنے انیشل پبلک آفرنگ (آئی پی او) کے شیئرز کامیابی کے ساتھ شیئر ہولڈرز کے اکاؤنٹس میں منتقل کردیے جس کے ساتھ ہی کمپنی کی ترقی کے سفر کا ایک اہم باب مکمل ہوگیا۔
کمپنی کے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے مین بورڈ پر باقاعدہ منتقلی کے بعد 24 دسمبر تک حصص (شیئرز) ڈیجیٹل طور پر سرمایہ کاروں کے سینٹرل ڈپازٹری سسٹم (سی ڈی ایس) اکاؤنٹس میں جمع کردیے گئے۔
12 دسمبر 2005 کو یونیورسل نیٹ ورک سسٹمز لمیٹڈ کے نام سے قائم ہونے والی یہ کمپنی کمپنیز ایکٹ 2017 کے نفاذ سے قبل کمپنیز آرڈیننس 1984 کے تحت کام کر رہی تھی۔ 2024 کے اوائل میں، کمپنی نے اپنی کارپوریٹ شناخت کو ’بلیو ایکس لمیٹڈ‘ کے طور پر تبدیل کرلیا (ری برانڈ کیا) تاکہ اسے اپنے مشہورِ زمانہ برانڈ بلیو ایکس’ کے مطابق ڈھالا جا سکے جو پہلے ہی پاکستان کے لاجسٹکس اور ای کامرس کے شعبوں میں ایک جانا پہچانا نام بن چکا تھا۔
بلیو ایکس کی بنیادی خدمات کارگو فارورڈنگ، مقامی اور بین الاقوامی کوریئر سروسز، اور مربوط لاجسٹکس مینجمنٹ پر محیط ہیں۔ کمپنی کو طویل عرصے سے ای کامرس ڈلیوری کے شعبے میں ایک بانی (پیش رو) کے طور پر پہچانا جاتا ہے، یہ پاکستان میں 2011 میں کیش آن ڈلیوری (سی او ڈی) سروسز شروع کرنے والی پہلی کمپنی تھی، یہ ایک ایسی پیشرفت تھی جس نے ملک میں آن لائن شاپنگ کے طریقہ کار کو بنیادی طور پر بدل کر رکھ دیا۔
2025 کا آئی پی او بلیو ایکس کے مارکیٹ سفر میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اصل میں 2021 میں اسٹاک ایکسچینج کے گروتھ انٹرپرائز مارکیٹ (جی ای ایم) بورڈ پر لسٹ ہونے کے بعد، اب مین بورڈ پر کمپنی کی منتقلی اسے پاکستان کی سرکردہ عوامی فہرست میں شامل کمپنیوں کی صف میں کھڑا کر دیتی ہے۔
اس آئی پی او کے تحت عوام کو 65 روپے فی شیئر کی مقررہ قیمت پر 10 لاکھ (ایک ملین) شیئرز پیش کیے گئے تھے۔ ان شیئرز کی کامیابی سے منتقلی کیساتھ ہی بلیو ایکس نے سرمایہ اکٹھا کرنے اور مارکیٹ کے ساتھ ہم آہنگی کے عمل کا آخری مرحلہ مکمل کرلیا ہے جس سے سرمایہ کاروں کی شمولیت اور مستقبل کی ترقی کے نئے راستے کھل گئے ہیں۔
مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلیوایکس کی مین بورڈ پر لسٹنگ ممکنہ طور پر سرمایہ کاروں کی توجہ میں اضافہ کرے گی، خاص طور پر اس وقت جب پاکستان میں لاجسٹکس اور ای-کامرس کے شعبے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ یہ اقدام کمپنی کی بڑی عملی چیلنجز کے لیے تیاری اور مارکیٹ میں اس کی جدت طرازی کی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کا عندیہ بھی دیتا ہے۔
دو دہائیوں کے دوران بلیو ایکس ایک عام سے لاجسٹکس آپریٹر سے ترقی پا کر پاکستان کے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ایک مثالی نام بن چکا ہے جس نے تکنیکی جدت کو کسٹمر سینٹرک (صارفین پر مرکوز) خدمات کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ آئی پی او شیئرز کی کامیاب منتقلی نہ صرف کمپنی کے اس مالیاتی سنگِ میل کی عکاسی کرتی ہے بلکہ ایک مسابقتی اور متحرک مارکیٹ میں اس کی ترقی، کارکردگی اور بہترین خدمات کے لیے طویل مدتی عزم کی بھی توثیق کرتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.