BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)
رائے

نااہل رہنماؤں کا عروج

  • قیادت کی صلاحیتوں پر اعتماد تیزی سے زوال کا شکار ہے۔ ڈی ڈی آئی کی 2025 کی لیڈرشپ فورکاسٹ اسٹڈی کے مطابق قیادت اب تقریباً ایک نایاب نوع بنتی جا رہی ہے
شائع اپ ڈیٹ

ڈیلیوری اہداف پورے نہ ہونا، ٹارگٹس کے حصول میں ناکامی، ٹیموں میں انتشار، مسائل کا جنم لینا، یہ سب قیادت کی ناکامیوں کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب انتظامی خرابیوں کے اشارے ہیں۔ یہ سب ذمہ داران کی جانب سے غلط ہینڈلنگ کی تنبیہات ہیں۔ ایسے مسائل بسا اوقات قیادت میں تبدیلی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا بھی ہے، مگر اکثر اوقات نہیں۔ زیادہ تر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک کے بعد ایک ادارہ ایسے رہنماؤں کو برقرار رکھتا ہے جو کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہوں۔

اس تاثر کی تائید دنیا بھر سے سامنے آنے والی قیادت سے متعلق رپورٹس کرتی ہیں۔ قیادت کی صلاحیتوں پر اعتماد تیزی سے زوال کا شکار ہے۔ ڈی ڈی آئی کی 2025 کی لیڈرشپ فورکاسٹ اسٹڈی کے مطابق قیادت اب تقریباً ایک نایاب نوع بنتی جا رہی ہے۔ 2022 سے 2024 کے دوران فوری مینیجرز پر اعتماد 46 فیصد سے گر کر 29 فیصد رہ گیا۔ 17 فیصد کی یہ کمی مینیجرز کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کو بے نقاب کرتی ہے، حالانکہ یہی مینیجرز افرادی قوت سے براہِ راست جڑے ہوتے ہیں اور ٹیم کے اتحاد اور حوصلے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

سینئر قیادت پر اعتماد مسلسل دوسرے عرصے میں بھی کم ہی رہا، جہاں صرف 32 فیصد رہنماؤں نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 68 فیصد ملازمین اس قیادت کے معیار کے خلاف رائے دے رہے ہیں جس کے ساتھ یا جس کے تحت وہ کام کر رہے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام حقائق کے باوجود، ان میں سے کئی نام نہاد رہنما نہ صرف برقرار رہتے ہیں بلکہ ترقی بھی پاتے ہیں۔ وہ ایک ادارہ چھوڑ کر کسی دوسرے ادارے میں مزید اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔ وہ اہم کمیٹیوں کے رکن بنتے ہیں۔ متعدد اسٹریٹجک منصوبوں میں شامل ہوتے ہیں۔

انہیں مختلف صنعتی کونسلوں میں نمایاں کیا جاتا ہے۔ وہ علاقائی فورمز کی سربراہی کرتے ہیں۔ کئی قومی ٹاسک فورسز کی قیادت سنبھالتے ہیں۔ اسی لیے ان میں سے بہت سی ٹاسک فورسز محض کاغذی شیردل ثابت ہوتی ہیں۔ اسی لیے بہت سے فورمز سیر و تفریح کے مراکز بن جاتے ہیں۔ اور اسی لیے یہ صنعتی کونسلیں محض بزنس مین جی ٹیز بن کر رہ جاتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ رہنما زندہ رہتے اور ترقی کرتے ہیں تو نچلی سطح پر موجود کئی قابل اور ذہین رہنما بددل ہو کر ادارے چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ وہ کچھ دیکھ لیتے ہیں جو اعلیٰ انتظامیہ نہیں دیکھ پاتی: رابطے کا فقدان۔ نااہل افراد کا ناحق عروج۔

وہ دیکھتے ہیں کہ نااہل افراد کو نوازا جا رہا ہے۔ اس سے ادارے کے ساتھ وابستگی مجروح ہوتی ہے۔ یوں عدم دلچسپی کی ایک ثقافت جنم لیتی ہے۔ اور بالآخر یہی عدم دلچسپی پائیداری سے کٹاؤ کا سبب بنتی ہے۔ اپنی تھری ڈی عینک پہنیں اور ان خوداعتماد نااہل افراد کو تیسری جہت سے دیکھنا شروع کریں:

خوداعتماد نااہل #1— شوخ و شنگ مگر غیر فعال
بطور لیڈرشپ ڈیولپمنٹ کوچ، میں نے بڑے اور چھوٹے کئی اداروں میں ان کی بہتات دیکھی ہے۔ یہ لوگ خاص ہوتے ہیں۔ ان کی موجودگی متاثر کن ہوتی ہے۔ ان کی توانائی چھلکتی ہے۔ وہ سانپ کو بھی مسحور کر سکتے ہیں۔ مگر جو ان کی حقیقت بھانپ لے، اسے ڈسنے سے بھی نہیں چوکتے۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری، اپنے عروج کے زمانے میں، ان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوئی۔ نفیس انگریزی بولنے کی صلاحیت رکھنے والے ان افراد نے ٹیکسٹائل کوٹاز سے فائدہ اٹھایا۔ لیوائز، رالف لارین اور ڈی کے این وائی جیسے عالمی برانڈز لائے گئے۔ صنعت میں زبردست چرچا ہوا۔ انہیں فورمز پر خطاب کی دعوتیں ملیں۔

اپنے شوخ انداز میں انہوں نے سامعین کو اس کہانی سے مسحور کر دیا کہ کیسے انہوں نے امریکی اور یورپی فیشن برانڈز کو قائل کیا۔ مگر جلد ہی کمپنی پر آشکار ہوا کہ آرڈرز تو موجود ہیں، مگر معیار اور بروقت ترسیل موجود نہیں۔ ٹیکسٹائل کا بوم ماند پڑ گیا، مگر یہ کم دمک والے ستارے اپنی سابقہ شہرت کے سہارے کمپنیاں بدلتے اور دیگر صنعتوں میں جا بسے۔ بالآخر بڑے ٹیکسٹائل ناموں کے ساتھ بلند سے بلند تنخواہوں پر کام کرنے کے بعد، شاندار سی وی کے بل بوتے پر انہیں ٹیکسٹائل کے فروغ کے لیے کسی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ادارے میں مراعات سے بھرپور عہدے مل گئے۔

خوداعتماد نااہل #2— پیچیدہ سادہ لوح
مجھے اس زمرے کے رہنماؤں سے پہلی ملاقات یاد ہے۔ میں ایک لیڈرشپ سیمینار میں مدعو تھی۔ مجھ سے پہلے مقرر میرے ساتھ بیٹھے تھے۔ تعارف کے وقت ان کا سادہ لباس دیکھ کر حیرت ہوئی۔ جب انہوں نے گفتگو شروع کی تو ان کے زمین سے جڑے مگر بظاہر عالمانہ انداز نے متاثر کر دیا۔ وہ حقائق بیان کر رہے تھے، دونوں زبانوں میں گفتگو، عمدہ مثالیں اور اشعار، میں نے سوچا، بالآخر ایک باوقار رہنما۔

وہ ایک بڑے گروپ کے سربراہ تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، میں نے جانا کہ وہ ”ادھار لی ہوئی دانائی“ پر زندہ ہیں۔ بے جھجھک مگر بڑے اعتماد سے وہ کامیابیوں کی کہانیاں سناتے جو دوسروں کی تھیں۔
دوسروں کے اقوال اس طرح بیان کرتے جیسے اپنی ہی تخلیق ہوں۔ ان کی سربراہی میں کمپنی میں انہیں ماہر جوڑ توڑ سمجھا جاتا تھا۔ ان کا بظاہر شاندار تجزیہ کسی کو بھی دھوکہ دے دیتا۔ ان کا دوستانہ رویہ بہت سوں کو گمراہ کر دیتا۔ ایسے رہنما نااہل ہونے کے باوجود طویل عرصہ قائم رہتے ہیں، کیونکہ کامیابی کا سارا کریڈٹ خود سمیٹ لیتے ہیں اور ناکامی کا بوجھ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ بالآخر کسی بڑے سانحے کے بعد کمپنی انہیں نکال دیتی ہے، مگر تب تک وہ کہیں اور بہتر مواقع تلاش کر چکے ہوتے ہیں۔

خوداعتماد نااہل #3— وفادار لابیسٹ
یہ روایتی”بادشاہ سے بھی زیادہ وفادار“ قسم کے لوگ ہوتے ہیں، جو جانتے ہیں کہ ان کی حیثیت قابلیت پر نہیں بلکہ وفاداری پر قائم ہے۔ بڑے لوگوں تک ان کی براہِ راست رسائی ہوتی ہے۔ وہ مالکان کے ذاتی رازوں کے محافظ ہوتے ہیں۔ ویسے یہ صرف پاکستانی سیٹھ اداروں تک محدود نہیں۔

کئی نجی شعبے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں یہی کارپوریٹ ترقی کا طریقہ ہے۔ پاکستان کے مالیاتی شعبے میں، جس میں مقامی اور غیر ملکی بینک شامل تھے، نیا سربراہ پورے کے پورے اپنے “ٹیم” کے ساتھ آتا۔ چونکہ یہ ٹیم طاقتور حلقوں کی چنی ہوئی ہوتی، اس لیے نالاں ملازمین بے بس رہتے۔ ناکامی سامنے آنے پر بھی یہ لوگ جمے رہتے، کسی بہتر اور پرتعیش عہدے کے لیے اپنی لابی کے فعال ہونے کا انتظار کرتے۔

خوداعتماد نااہل #4— بورڈ روم گیمر
آخر میں، سیاسی طور پر چالاک بورڈ روم کھلاڑی۔ یہ رجحان میں نے ملٹی نیشنلز میں دیکھا۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ اپنے غیر ملکی ہیڈز کو جواب دہ ہوتی ہے۔ وہ غیر ملکی بورڈ ممبرز سے نیٹ ورک بناتے ہیں۔ تعصبات پیدا کرنے کے لیے منتخب معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کی وابستگیاں اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ اگر مقامی انتظامیہ ان کی نااہلی سے تنگ آ کر انہیں برقرار رکھنے سے انکار بھی کر دے، تو یہ بورڈ روم دوستوں کے ذریعے بیرونِ ملک کہیں زیادہ منافع بخش تعیناتی حاصل کر لیتے ہیں۔

جیسے جیسے نااہل رہنما اوپر آتے ہیں، کمپنیاں اور معیشتیں نیچے جاتی ہیں۔ دنیا کا موجودہ بحران معاشی کم اور قیادت کا زیادہ ہے۔ جو لوگ ایسے رہنماؤں کا انتخاب کرتے ہیں اور ناکامی کے باوجود انہیں برقرار رکھتے ہیں، انہیں اپنی فیصلہ سازی کی قوت کو بہتر بنانا ہوگا۔ بدقسمتی سے وہ خود اپنی نااہلی کے باعث اس فرضی اہلیت کے جھوٹے پردوں کو چاک نہیں کر پاتے۔ جیسا کہ ولیم شیکسپیئر نے کہا تھا:“ کتنا ہولناک دور ہے، جب اندھے لوگوں پر احمق حکمرانی کریں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.