حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں انسدادِ پولیو کی حالیہ مہم اتوار کو ختم ہوگئی، اس دوران گزشتہ چھ دنوں میں 4 کروڑ 43 لاکھ (44.3 ملین) سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق 15 دسمبر کو شروع کی گئی یہ 7 روزہ مہم 5 سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے تھی اور یہ پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت چلائی جا رہی ہے۔
پاکستان اور افغانستان وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں وائلڈ پولیو وائرس کی ترسیل کبھی مکمل طور پر روکی نہیں جا سکی جو عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو ناقابلِ واپسی فالج کا سبب بن سکتی ہے، اس کا کوئی علاج نہیں اور یہ صرف بار بار زبانی ویکسینیشن کے ذریعے روکی جا سکتی ہے۔
این ای او سی نے ایک بیان میں کہا کہ اتوار کو سال 2025 کی آخری پولیو مہم کا آخری دن ہے۔
6 دنوں میں 44.3 ملین سے زائد بچوں کو ویکسین دی جاچکی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب میں تقریباً 22.9 ملین، سندھ میں 10.4 ملین سے زائد، خیبر پختونخوا میں 7.1 ملین اور بلوچستان میں تقریباً 2.54 ملین بچوں کو ویکسین دی گئی۔
این ای او سی کے مطابق، اسلام آباد میں 450,000 سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے دیے گئے جبکہ گلگت بلتستان میں 274,000 سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی۔ آزاد جموں و کشمیر میں یہ تعداد 714,000 سے زائد رہی۔
پاکستان نے اس سال اب تک 30 پولیو کے کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ ملک نے 2024 میں 74 کیسز درج کیے تھے جو 2023 کے 6 کیسز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے جس کی وجہ ویکسین کے بارے میں ہچکچاہٹ، غلط معلومات اور خطرے والے علاقوں تک رسائی میں مشکلات بتائی گئی ہیں۔
حکام نے کہا کہ سکیورٹی خدشات ویکسینیشن کے اقدامات میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں کیونکہ پولیو کارکن اور ان کے حفاظتی عملے بار بار حملوں کا شکار ہوئے ہیں، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں۔ قدرتی آفات، بشمول سیلاب، نے بھی گزشتہ چند سالوں میں مہمات کو متاثر کیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025























Comments
Comments are closed.