معاشی استحکام وعوامی خدمات کی بہتر فراہمی، ورلڈ بینک نے 700 ملین ڈالر کی منظوری دیدی
- فنڈنگ پاکستان پبلک ریسورسز فار اِنکلوژِو ڈویلپمنٹ ملٹی فیز پروگراممیٹک اپروچ کے تحت فراہم کی جائے گی
ورلڈ بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پاکستان کے لیے 700 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی ، یہ فنڈنگ پاکستان پبلک ریسورسز فار اِنکلوژِو ڈویلپمنٹ ملٹی فیز پروگراممیٹک اپروچ (پی آر آئی ڈی۔ ایم پی اے)کے تحت فراہم کی جائے گی جس کا مقصد معاشی استحکام اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا ہے۔
بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پی آر آئی ڈی۔ ایم پی اے ایک جدید قومی پروگرام ہے جو وفاقی اور صوبائی سطح پر اصلاحات کی معاونت کرے گا تاکہ داخلی محصولات میں اضافہ، اخراجات کے معیار میں بہتری اور ڈیٹا و ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے خدمات کی مؤثر ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔
یہ پروگرام جاری مالی اصلاحات کی تکمیل کے لیے ترتیب دیا گیا ہے اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف ) پروگرام اور نیشنل فسکل پیکٹ سے ہم آہنگ ہے۔
مجموعی طور پر اس ایم پی اے کے تحت 1.35 ارب ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔اس میں سے 600 ملین ڈالر وفاقی پروگراموں جبکہ 100 ملین ڈالر خصوصی طور پر سندھ کے صوبائی پروگرام کے لیے منظور کیے گئے ہیں۔ پروگرام کا نتائج پر مبنی ڈیزائن اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ رقوم صرف اسی وقت جاری ہوں گی جب مقررہ اہداف حاصل ہوں۔
ورلڈ بینک کی پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آمگابازار نے کہا کہ پاکستان کا جامع اور پائیدار ترقی کا راستہ زیادہ ملکی وسائل کو متحرک کرنے اور یہ یقینی بنانے سے گزرتا ہے کہ یہ وسائل مؤثر، شفاف طریقے سے استعمال ہوں تاکہ عوام کے لیے نتائج فراہم کیے جا سکیں۔
ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان بولورما اماگابازار نے کہا کہ پاکستان میں جامع اور پائیدار ترقی کے لیے داخلی وسائل میں اضافہ اور ان کے شفاف و مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے وفاقی اور سندھ حکومتوں کے ساتھ مل کر اسکولوں اور صحت مراکز کے لیے قابلِ پیش گوئی فنڈنگ، منصفانہ ٹیکس نظام اور فیصلہ سازی کے لیے مضبوط ڈیٹا کی فراہمی کو ممکن بنانے کے ساتھ ساتھ سماجی اور موسمیاتی ترجیحات کا تحفظ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی جزو کے تحت منصفانہ انداز میں محصولات میں اضافہ، بجٹ کی منصوبہ بندی و عمل درآمد میں بہتری اور شواہد پر مبنی فیصلوں کے لیے ڈیٹا سسٹمز کی مضبوطی پر توجہ دی جائے گی۔
اہم اقدامات میں ٹیکس پالیسی و انتظامی اصلاحات، انٹیگریٹڈ فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور اس سے منسلک ای پروکیورمنٹ پلیٹ فارم کی توسیع، ہدفی سبسڈی اصلاحات اور قومی شماریاتی نظام کی مضبوطی شامل ہیں جس کی قیادت پاکستان بیورو آف شماریات کرے گا۔
ورلڈ بینک کے لیڈ کنٹری اکنامسٹ ٹوبیاس اختر حق کے مطابق پاکستان کی مالی بنیادوں کو مضبوط بنانا معاشی استحکام، مؤثر نتائج اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے ضروری ہے۔
پی آر آئی ڈی‑ایم پی اے کے ذریعے ایک ہم آہنگ قومی فریم ورک متعارف کرایا جا رہا ہے جو انسانی وسائل اور موسمیاتی لچک میں سرمایہ کاری، محصولات کے نظام، بجٹ کے نفاذ اور شماریاتی نظام کو مضبوط بنائے گا تاکہ وسائل مؤثر اور جوابدہ انداز میں عوام تک پہنچیں۔
سندھ میں یہ پروگرام صوبائی آمدن میں اضافہ، ادائیگیوں کی رفتار اور شفافیت بہتر بنانے اور فیصلہ سازی میں ڈیٹا کے استعمال کو وسعت دینے میں مدد دے گا۔ اس کے تحت بنیادی صحت مراکز کے لیے زیادہ منصفانہ و جوابدہ فنڈنگ اور سکولوں کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے جائیں گے جن سے صوبے میں جامع ترقی کو تقویت ملے گی۔

























Comments
Comments are closed.