شرحِ سود میں کمی پر آٹو فنانسنگ کا بھرپور ردِعمل
- مالی سال 2026 کے ابتدائی 5 مہینوں میں اوسط خالص قرضہ پہلے ہی مالی سال 2021 کے اوسط سے تجاوز کر چکا ہے
دو سال کے گہرے اور طویل سکڑاؤ کے بعد گاڑیوں کی فنانسنگ شرحِ سود میں کمی پر کافی تیزی سے ردِعمل دے رہی ہے۔ شرحِ سود میں مسلسل کئی کٹوتیوں کے بعد مئی اور نومبر 2025 کے درمیان پالیسی ریٹ 11 فیصد پر مستحکم رہا (اس میں رواں ماہ کی 50 بیسس پوائنٹس یعنی 0.5 فیصد کی حالیہ کمی شامل نہیں ہے)۔
آٹو قرضوں کے خالص قرض لینے کا رجحان مسلسل مثبت رہا اور پہلی بار بحالی کے آثار اس وقت نظر آئے جب شرح سود 22 فیصد سے کم کرکے 13 فیصد کی گئی۔
لیکن قرضوں کی فراہمی میں اصل تیزی اس وقت آئی جب جنوری 2025 میں شرحِ سود 12 فیصد تک گری۔ یہ شرح سود اور آٹو قرضوں کے درمیان نظریاتی الٹ تناسب کی مثال ہے تاہم اس زبردست بحالی کے باوجود یہ ضروری نہیں کہ یہ ایک مضبوط کریڈٹ مارکیٹ کی علامت ہو بلکہ یہ ایک زیادہ دباؤ والی مارکیٹ کی عکاسی بھی ہوسکتی ہے۔
اگرچہ آٹو فنانسنگ میں بحالی کی بنیادی وجہ شرحِ سود میں کمی نظر آتی ہے، لیکن یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی محض 5 مہینوں میں اوسط خالص قرضہ پہلے ہی مالی سال 2021 کے اوسط سے تجاوز کر چکا ہے۔ یاد رہے کہ مالی سال 2021 آٹو لونز کے لیے اب تک کا بہترین دور مانا جاتا تھا جب شرحِ سود تاریخ کی کم ترین سطح یعنی 7 فیصد پر تھی۔
جب شرح سود بڑھنے لگیں تو خالص قرضہ تقریباً مسلسل الٹا ردِ عمل دینے لگا۔ مالی سال 2022-23 تک جب شرح سود میں سختی کی گئی، آٹو قرضے تقریباً بند ہوگئے اور خالص قرضہ منفی ہوگیا۔ جیسے ہی مالی سال 2024-25 میں شرح سود میں نرمی آئی، خالص قرضہ دوبارہ تیزی سے مثبت ہو گیا۔اگرچہ نومبر 2025 تک پالیسی ریٹ اب بھی دو ہندسوں میں تھا، اوسط خالص قرضہ 8 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔
یہ حقیقت کہ اوسط خالص قرضہ اب اپنی کم ترین شرحِ سود والے دور کے عروج سے بھی تجاوز کر گیا ہے، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب نہ صرف شرحِ سود زیادہ ہے بلکہ فنانسنگ کے ضوابط بھی انتہائی سخت ہیں (جیسے کہ قرض کی مدت میں کمی، 30 لاکھ روپے کی فنانسنگ کی حد، اور 30 فیصد ڈاؤن پیمنٹ کی لازمی شرط) اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مارکیٹ آسان قرضوں یا سکت سے نہیں بلکہ ضرورت اور قیمتوں کے دباؤ سے چل رہی ہے۔
شرحِ سود میں کمی نے یقیناً مدد فراہم کی ہے لیکن سخت ضوابط اور قیمتوں کے دباؤ نے خریداروں کے ذہنی اور مالی تناؤ میں اضافہ کردیا ہے۔ شرحِ سود اب بھی اپنی تاریخی کم ترین سطح سے کافی زیادہ ہونے کے باوجود، خریدار بھاری بھرکم پیشگی رقم ، قرض کی واپسی کی مختصر مدت اور بہت زیادہ ماہانہ قسطوں کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔
یقیناً، شرحِ سود میں کٹوتیوں نے گاڑیوں کی طلب کو سہارا دیا ہے۔ برسوں سے دبی ہوئی طلب کے بعد، اب نئے ماڈلز اور نئے انجنوں کی آمد نے مارکیٹ میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ اگر پالیسی کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ صورتحال اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حکمتِ عملی کے عین مطابق ہے: قرضوں کا بہاؤ جاری ہے (جو معاشی ترقی کی تصویر کشی کے لیے بہترین ہے) لیکن دوسری طرف سخت ضوابط کی وجہ سے طلب قابو میں ہے (تاکہ درآمدات پر حد برقرار رہے)، جس کے نتیجے میں بیرونی دباؤ بھی محدود رہے ہیں۔
دریں اثنا گھریلو صارفین اس ایڈجسٹمنٹ کی قیمت چکا رہے ہیں۔ یہ میکرو اکنامک استحکام کے لیے ایک بڑی جیت ہے، بینکوں کے لیے بھی ایک جیت ہے، اور ہم صارفین کے لیے اسے ایک جزوی جیت قرار دے سکتے ہیں جنہیں اگرچہ گاڑی کی مہنگی اور مشکل قسطوں کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑ رہا ہے لیکن کم از کم ان کے گھر کے باہر ایک چمکتی دمکتی نئی گاڑی تو موجود ہے جسے وہ اپنی کہہ سکتے ہیں۔
تاہم اگر درآمدات اپنی موجودہ رفتار برقرار رکھیں تو چونکہ جولائی تا اکتوبر سی بی یو اور سی کے ڈی کی درآمدات بالترتیب سالانہ 30 فیصد اور 122 فیصد بڑھ گئی ہیں تو یہ تمام کامیابیاں ممکنہ طور پر عارضی ثابت ہوسکتی ہیں۔

























Comments
Comments are closed.