بونڈی فائرنگ، سڈنی کا شہری غلط شناخت کے بعد خوف میں مبتلا
- متعلقہ شخص کو سوشل میڈیا پر غلط طور پر حملہ آور کے طور پر پیش کیا گیا
سڈنی میں مقیم ایک شخص نے بتایا ہے کہ بونڈی بیچ فائرنگ کے واقعے کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور وہ پیر کے روز اپنے گھر سے نکلنے سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ سوشل میڈیا پر انہیں غلط طور پر حملہ آور کے طور پر پیش کیا گیا۔
اتوار کی شام آسٹریلیا کے معروف ساحل بونڈی بیچ پر ایک یہودی تہوار کے دوران باپ بیٹے نے فائرنگ کر دی تھی، جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 15 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہو گئے تھے۔ حکام نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے، تاہم پولیس نے تاحال حملہ آوروں کے نام ظاہر نہیں کیے۔ ایک حملہ آور موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا اسپتال میں زیر علاج ہے۔
اس کے باوجود، آسٹریلوی سرکاری نشریاتی ادارے اے بی سی نے ایک گمنام عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ مبینہ حملہ آور کا نام نوید اکرم ہے، جس کے بعد مقامی میڈیا میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ پولیس نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا ہے۔ اس کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ایک شخص کی تصویر وائرل ہو گئی، جس میں وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی سبز جرسی پہنے مسکراتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
یہ تصویر دراصل ایک اور نوید اکرم کے فیس بک اکاؤنٹ سے لی گئی تھی، جو حملے سے کسی بھی طرح تعلق نہیں رکھتا۔ متاثرہ شخص نے پیر کے روز پاکستانی قونصلیٹ سڈنی کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں عوام سے اپیل کی کہ وہ اس غلط معلومات کو پھیلانے سے روکیں۔
ویڈیو میں نوید اکرم نے کہا کہ میڈیا رپورٹس میں جس حملہ آور کا نام نوید اکرم بتایا جا رہا ہے، وہ وہ نہیں ہیں اور ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے بونڈی بیچ فائرنگ کو ایک خوفناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تصویر کے غلط استعمال سے ان کی اور ان کے خاندان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
30 سالہ نوید اکرم نے بتایا کہ انہیں اتوار کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے اس غلط شناخت کا علم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نیند نہیں آ سکی، خوفناک پیغامات موصول ہوئے اور وہ خود کو شدید خطرے میں محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے اہل خانہ، خصوصاً پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مقیم رشتہ داروں کو بھی فون کالز موصول ہوئیں، جس پر وہاں پولیس کو اطلاع دی گئی۔
نوید اکرم 2018 میں تعلیم کے لیے آسٹریلیا آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے سڈنی سے ماسٹرز کیا اور اس وقت کار رینٹل کا کاروبار چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آسٹریلیا کو ایک محفوظ اور بہترین ملک سمجھتے ہیں، تاہم اس واقعے نے انہیں گہرے ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔






















Comments