روس نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جنوبی یوکرین کے اوڈیسا ریجن میں توانائی کے ڈھانچے پر ڈرون حملے کیے، جس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور وسیع پیمانے پر بجلی معطل ہوگئی اور ہزاروں لوگ بجلی سے محروم ہوگئے۔ مقامی گورنر اور ایمرجنسی سروس نے اس صورت حال کی تصدیق کی ہے۔
گورنر اولیہ کیپر نے اپنے بیان میں بتایا کہ حملے سے کئی علاقے بجلی سے محروم ہوگئیں۔ یہ علاقہ یوکرین کی اہم سمندری بندرگاہوں کا مرکز ہے، جسے روس گزشتہ کئی ہفتوں سے تواتر کے ساتھ نشانہ بنا رہا ہے۔ حکام کے مطابق روس نے موسمِ سرما کی شدت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی توانائی کے شعبے اور انفراسٹرکچر پر حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں بجلی گھروں اور ریلوے اسٹیشنوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے، جبکہ جنگ اپنے چوتھے سال میں داخل ہونے کو ہے۔
یوکرین کی سب سے بڑی نجی بجلی کمپنی ڈی ٹی ای کے نے بتایا کہ اس کی ایک سب اسٹیشن اور ایک دیگر کمپنی کی توانائی تنصیب بھی حملے میں تباہ ہوئی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ 40 ہزار صارفین کی بجلی بحال کر دی گئی ہے، تاہم اب بھی 90 ہزار صارفین بجلی سے محروم ہیں۔
حالیہ شدید حملوں کے تناظر میں یوکرینی حکومت نے ملک بھر میں بجلی بچانے کے لیے اقدامات کا ایک نیا سلسلہ منظور کیا ہے، کیونکہ متعدد علاقوں میں روسی حملوں کے بعد کئی کئی گھنٹے بجلی دستیاب نہیں رہتی۔ حکام نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ کم سے کم استعمال کر کے بجلی کے بحران میں قابو پانے میں مدد کریں۔
























Comments