پنجاب میں بسنت کا تہوار 6 سے 8 فروری تک منایا جائے گا
- بسنت آرڈیننس 2025 کے تحت تمام پتنگ فروش اور ڈوریں رجسٹرڈ ، کیو آر کوڈ شدہ اور نگرانی کے تحت ہوں گی
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں 25 سال بعد بسنت کا تہوار بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے اور حکام کو سخت حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے، کیوں کہ شہر 6 تا 8 فروری کو ہونے والے تین روزہ تہوار کی میزبانی کے لیے تیار ہو رہا ہے۔
سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کے مطابق بسنت آرڈیننس 2025 کے تحت تہوار کے دوران مکمل طور پر قانون نافذ کیا جائے گا۔ تمام پتنگ فروش اور بنانے والے رجسٹرڈ ہوں گے، جبکہ پتنگ کی ڈوریں کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر مانیٹر کی جائیں گی ، تاکہ حفاظتی معیارات کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے لاہور میں تمام موٹر سائیکلوں پر حفاظتی اینٹینا نصب کرنے کے لیے بدھ سے شہر بھر میں مہم چلانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
یہ اینٹینا اس لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں ، تاکہ بسنت کے دوران غیر محفوظ پتنگ کی ڈور سے ہونے والے حادثات کو روکا جا سکے، جو ماضی میں بڑے حادثات کی وجہ رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے دفتر کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا بسنت عوام کی ہے اور اس کی کامیابی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہوار کے دوران عوامی تحفظ حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بسنت کی بحالی، جو لاہور کے سب سے مشہور ثقافتی تہواروں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، شہر کی تاریخی بہار کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کے ساتھ ساتھ رہائشیوں اور شائقین کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب صوبائی حکومت نے حال ہی میں پنجاب کیٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 نافذ کر کے بسنت کے دوبارہ انعقاد کا باقاعدہ قانونی راستہ ہموار کر دیا۔
صوبے کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) نے اس ترقی کا اعلان ایک سرکاری پوسٹ میں کیا
جس میں لکھا گیا ہے کہ بسنت 25 سال بعد واپس آ گئی ہے۔
























Comments
Comments are closed.