اسٹاک ایکسچینج میں 2026 کے دوران 16 آئی پی اوز متوقع
- بینچ مارک 100 انڈیکس اس سال 47 فیصد سے زائد بڑھ چکا ہے
بلومبرگ نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی ریکارڈ ساز کارکردگی کمپنیوں کو دوبارہ ایکویٹیز کی طرف راغب کر رہی ہے جس کے باعث بینکرز کا کہنا ہے کہ 2026 میں ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی او) کے لیے یہ ایک شاندار سال ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دو سرکردہ سرمایہ کاری بینکوں عارف حبیب لمیٹڈ اور کے ٹریڈ سیکیورٹیز لمیٹڈ کے پاس آئندہ سات مہینوں میں مجموعی طور پر 16 آئی پی اوز (ابتدائی عوامی پیشکشوں) کی پائپ لائن ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس اس سال 47 فیصد سے زائد بڑھ چکا ہے اور دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی منڈیوں میں شامل ہو چکا ہے، جب ویلیوایشن طویل المدتی اوسط سطح تک پہنچ چکی ہیں، تو نئی آفرنگز کی واپسی کے امکانات مضبوط ہوگئے ہیں۔
عارف حبیب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد علی حبیب نے بلوم برگ کو بتایا کہ موجودہ مارکیٹ ویلیوایشنز ایکویٹی کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرنے کے لیے پرکشش ہیں اور ان کے مطابق جون تک 8 آئی پی اوز لانے کی توقع ہے۔
سی ای او نے کرنسی کے استحکام اور سازگار شرحِ سود کے ماحول کو کیپٹل مارکیٹس کے لیے مضبوط معاون عوامل قرار دیا۔
عارف حبیب کے مطابق کنزیومر فارماسیوٹیکل اور آٹو سیکٹر کی بعض کمپنیاں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں کے لیے ایکویٹی مارکیٹ سے رجوع کر رہی ہیں کیونکہ انہیں معاشی نمو میں بہتری کی توقع ہے۔
دریں اثنا، کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خلیل عثمانی نے کہا کہ انہیں آئندہ چھ ماہ میں چھ کمپنیوں کی عوامی پیشکشوں کا انتظام کرنے کی توقع ہے۔
عارف حبیب کے مطابق پائپ لائن میں شامل کمپنیوں میں سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ بھی شامل ہے، جو اپریل تک تقریباً 6.5 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کے ٹریڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر، عمر صلاح احمد نے بلومبرگ کو بتایا کہ “سراف (Saraaf)، ایک کموڈٹی سورسنگ اسٹارٹ اپ جس نے 2024 میں شارک ٹینک میں 1.5 بلین روپے اکٹھے کیے تھے، بھی مارکیٹ میں آنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اور میٹکو فوڈز لمیٹڈ اپنی ’فلک فوڈز‘ یونٹ کو علیحدہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
کے ٹریڈ کےعمر صلاح احمد نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ 2026 آئی پی اوز کے لیے ایک ریکارڈ ساز سال ثابت ہو سکتا ہے۔ اب ویلیوایشنز آخرکار اس سطح پر آرہی ہیں جہاں اسپانسرز اپنی کمپنیوں کو لسٹ کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس نے گزشتہ تین برس میں 300 فیصد سے زائد اضافہ کیا تاہم مارکیٹ میں حد سے زیادہ گرم ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں کیونکہ انڈیکس اس وقت تقریباً 8 گنا فارورڈ ارننگز پر ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ طویل مدتی اوسط تقریباً 6.4 گنا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار گزشتہ 11 برس میں سے 9 برس میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے نیٹ سیلر رہے اور 2025 کے دوران انہوں نے پاکستان سے 321 ملین ڈالر نکالے جو 2021 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

























Comments
Comments are closed.