2025 میں بٹ کوائن کی تیز اُتار چڑھاؤ کی دوڑ ممکنہ طور پر مندی پر اختتام پذیر
- پیر کو بٹ کوائن تقریباً 89 ہزار ڈالر کی سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا
2025 میں ریکارڈ سطحوں اور شدید مندیوں کی ایک طویل قطار کے بعد دنیا کی سب سے بڑی کرپٹوکرنسی بٹ کوائن کے لیے یہ سال ایک جھٹکوں بھری سواری ثابت ہوا ہے، جس کے نتیجے میں یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ سال کا اختتام 2022 کے بعد پہلی مرتبہ سالانہ مندی پر ہو سکتا ہے۔
دنیا کی اہم اسٹاک مارکیٹس نے بھی اتار چڑھاؤ سے بھرپور سال گزارا۔ متعدد بار نئی بلندیوں کو چھونے کے بعد وہ پھر نیچے آگئیں، کیونکہ ٹیرف، شرحِ سود اور ممکنہ اے آئی ببل سے متعلق خدشات نے سرمایہ کاروں کو جھنجھوڑ رکھا تھا۔
اگرچہ سال کے آغاز سے اب تک ایکویٹیز مجموعی طور پر مثبت ہیں، مگر بٹ کوائن کی ان کے ساتھ ہم آہنگی اس سال نمایاں طور پر مضبوط ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روایتی ریٹیل اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے کرپٹو میں داخل ہونے کے سبب بٹ کوائن کی حرکات اب بڑھتی ہوئی حد تک اسٹاک مارکیٹ کے جذبات سے جڑ گئی ہیں۔
ان کے مطابق اگلے سال یہ رجحان مزید گہرا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی کارکردگی مانیٹری پالیسی میں تبدیلیوں اور اے آئی سے متعلق اسٹاکس کی بلند قیمتوں کے گرد پائی جانے والی بے چینی جیسے عوامل سے منسلک رہے گی۔
کرپٹو الگورتھمک ٹریڈنگ فرم وِنٹرمیوٹ کے ڈیسک اسٹریٹجسٹ جاسپر ڈی مائر نے کہا 2025 میں کرپٹو کی ایکویٹیز کے وسیع تر رجحانات پر ردعمل دینا ایک مستقل رحجان رہا ہے۔
پیر کو بٹ کوائن تقریباً 89 ہزار ڈالر کی سطح کے آس پاس ٹریڈ ہورہا تھا۔ سال کے اوائل میں کرپٹو دوست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد کرپٹو مارکیٹ نے تیزی پکڑی، مگر اپریل میں ان کی ٹیرف پالیسیوں کے اعلان کے بعد کرپٹو اور اسٹاک مارکیٹس دونوں لڑکھڑا گئیں، تاہم جلد ہی سنبھل بھی گئیں۔
بٹ کوائن نے اکتوبر کے اوائل میں 126 ہزار ڈالر سے زائد کی تاریخی بلند ترین سطح کو چھوا۔ مگر صرف چند روز بعد 10 اکتوبر کو مارکیٹ اس وقت پھر گر گئی جب ٹرمپ نے چینی درآمدات پر نیا ٹیرف عائد کرنے اور اہم سافٹ ویئر پر برآمدی پابندیوں کی دھمکی دی۔
اس مندی کے نتیجے میں لیوریجڈ کرپٹو پوزیشنز میں 19 ارب ڈالر سے زیادہ کی بڑے پیمانے پر لیکوئڈیشن ہوئی، جو کرپٹو مارکیٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی لیکوئڈیشن قرار دی جاتی ہے۔
گزشتہ ہفتے کے آخر تک ٹریڈرز کا اندازہ تھا کہ سال کے اختتام پر بٹ کوائن کے 80 ہزار ڈالر سے نیچے آنے کے امکانات 15 فیصد ہیں، جو چند ہفتے پہلے کے 20 فیصد اندازے سے کچھ کم ہیں۔
یہ صورتحال پھر بھی کرپٹو کے بلز بالخصوص مائیکل سیلر کی کمپنی اسٹریٹیجی کے لیے دھچکہ ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی بٹ کوائن ہولڈر کمپنی ہے۔ اس نے 30 اکتوبر تک یہ پیش گوئی کی تھی کہ بٹ کوائن اس سال 150 ہزار ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
گزشتہ سال اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے پیش گوئی کی تھی کہ 2025 کے اختتام تک بٹ کوائن 200 ہزار ڈالر تک جا سکتا ہے، جزوی طور پر بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کی وجہ سے ،جو بین الاقوامی کرپٹو مارکیٹ میں طلب کو مزید تقویت دے سکتے ہیں اور قیمتوں میں اضافے کا محرک بن سکتے ہیں۔
اسٹریٹیجی کے سی ای او فنگ لی نے گزشتہ ماہ ایک پوڈکاسٹ میں بٹ کوائن ونٹر کے ممکنہ آغاز سے خبردار کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے اکتوبر میں پیش گوئی کی تھی کہ بٹ کوائن 100 ہزار ڈالر سے نیچے آسکتا ہے، مگر شاید یہ آخری بار ہوگا کہ وہ اتنا نیچے گرے۔
سیلر نے گزشتہ ہفتے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ان کی کمپنی بٹ کوائن کی قیمت میں 95 فیصد کمی بھی برداشت کرسکتی ہے۔
اسٹاک مارکیٹس سے تعلق
اپریل اور اکتوبر کی مندی نے بٹ کوائن اور اسٹاک مارکیٹس، بالخصوص اے آئی اسٹاکس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کو نمایاں کیا ہے، جو حالیہ عرصے میں غیر معمولی نمو اور ساتھ ہی ببل کے خدشات کا شکار رہی ہیں۔
تاریخی طور پر بٹ کوائن اور اسٹاک مارکیٹس ایک ساتھ حرکت نہیں کرتی تھیں، کیونکہ کرپٹو کو متبادل سرمایہ کاری سمجھا جاتا تھا۔
مگر روایتی ریٹیل اور کچھ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی کرپٹو مارکیٹس میں شمولیت نے دونوں کے درمیان ارتباط (correlation) کو مضبوط کر دیا ہے۔ ارتباط -1 سے 1 تک ناپا جاتا ہے، جہاں صفر سے اوپر کی شرح مثبت تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
2025 میں بٹ کوائن اور ایس اینڈ پی 500 کے درمیان اوسط تعلق 0.5 رہا، جو 2024 کے 0.29 سے کہیں زیادہ ہے، جیسا کہ ایل ایس ای جی کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے۔
ٹیکنالوجی سے بھرپور نیس ڈیک 100 انڈیکس کے ساتھ بٹ کوائن کا اوسط تعلق 2025 میں 0.52 رہا، جو 2024 میں 0.23 تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کرپٹو اے آئی اسٹاکس کی نقل و حرکت کے لیے خاص طور پر حساس ہوگیا ہے، کیونکہ ایک جانب یہ اسٹاکس بڑے پیمانے پر ایکویٹی مارکیٹس کی سمت متعین کرتے ہیں اور دوسری جانب ان دونوں کو اب بھی کسی حد تک سٹہ باز نوعیت کی سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، جو سرمایہ کاروں کے جذبات اور رسک اپیٹائٹ پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔
کرپٹو انویسٹمنٹ فرم پانتیرا کیپیٹل کے جنرل پارٹنر کاسمو جیانگ نے کہا کہ 10 اکتوبر کے بعد سے کرپٹو پہلے ہی کچھ کمزور تھا لیکن حالیہ ہفتوں میں رسک مارکیٹس میں حقیقی مشکلات اس وقت سامنے آئیں جب اے آئی کے بل کیس پر سوال اٹھنے شروع ہوئے۔
شرح سود کے فیصلوں سے جڑی حساسیت
اسٹاکس کی طرح کرپٹو مارکیٹس بھی اب شرحِ سود کی سمت کے حوالے سے زیادہ حساس دکھائی دیتی ہیں۔ فِیڈیلیٹی کی گزشتہ سال کی تحقیق کے مطابق تاریخی ڈیٹا تو یہ ثابت نہیں کرتا کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی سے بٹ کوائن کی قیمت لازماً بڑھتی ہے، مگر بعض تجزیہ کاروں نے مشاہدہ کیا ہے کہ کرپٹو اکثر فیڈ کے نرم (dovish) اشاروں پر تیزی دکھاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے فیڈ کے سخت (hawkish) اشاروں نے بٹ کوائن پر دباؤ ڈالا، تاہم نئی معاشی معلومات کے بعد مارکیٹ اس ہفتے 25 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کے امکانات کو 86 فیصد تک قیمت میں شامل کر چکی ہے۔
میکسی مَم فریکوئنسی وینچرز کے شریک بانی اور جنرل پارٹنر مو شیخ نے کہا کہ اس مخصوص صورتحال میں مالیاتی رسد کے حوالے سے فیڈ کی سپورٹ وہ اشارہ ہو گا جس پر پوری کرپٹو مارکیٹ کی نظریں جمی ہوں گی۔






















Comments