ایم پاکس سے بچاؤ کیلئے آگاہی اور تحقیق ناگزیر ہے، ماہرین
- لاہور جنرل اسپتال میں “ایم پاکس اَن ماسکڈ: پریونشن، ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ فرنٹیئرز” کے عنوان سے آگاہی سیمینار کا انعقاد
لاہور جنرل اسپتال میں “ایم پاکس اَن ماسکڈ: پریونشن، ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ فرنٹیئرز” کے عنوان سے منعقدہ آگاہی سیمینار میں ماہرین نے کہا ہے کہ ایم پاکس ایک متعدی وائرل بیماری ہے جس کی روک تھام کیلئے عوامی آگاہی، بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور جامع تحقیق بے حد ضروری ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر فاروق افضل نے نوجوان ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ ایم پاکس سے متعلق تحقیقی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں تاکہ مرض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور مستقبل کی علاج گاہوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جدید میڈیکل سائنس نے پیچیدہ وائرل بیماریوں کے نظم و نسق کو آسان بنایا ہے۔ ماہرینِ امراضِ جلد بشمول پروفیسر ندرات سہیل، ایم ایس ایل جی ایچ پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، سربراہ شعبہ ڈرماٹولوجی پروفیسر عاطف شہزاد اور دیگر مقررین نے ایم پاکس وائرس کی نوعیت، اس کے پھیلاؤ کے طریقہ کار، علامات، وبائی پس منظر اور موجودہ علاج سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔
ماہرین نے بتایا کہ ایم پاکس ایک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے اور متاثرہ مریض سے قریبی جسمانی رابطے، جلدی دھبوں، آلودہ اشیا اور سانس کے قطروں کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔ سیمینار سے خطاب میں پروفیسر فاروق افضل نے کہا کہ صحت کے اداروں، ڈاکٹروں اور محققین کے باہمی تعاون سے ہی ایم پاکس پر مؤثر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ایم ایس ایل جی ایچ پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے لاہور جنرل اسپتال میں ایک جدید ایم پاکس ٹریٹمنٹ سینٹر قائم کیا ہے جہاں مریضوں کو تشخیص اور علاج کی سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ ماہرین نے ایم پاکس کی عام علامات جیسے بخار، جسم درد، پٹھوں میں اکڑن، غدود کی سوجن، جسم پر دانے یا چھالے اور شدید تھکن کا ذکر کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص نہ صرف پیچیدگیوں سے بچاتی ہے بلکہ مؤثر علاج کو بھی یقینی بناتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments