ہیوی انڈسٹریزٹیکسلا کے سربراہ کی بنگلہ دیش آرمی چیف سے ملاقات
- لیفٹیننٹ جنرل شاکر اللہ خٹک کی قیادت میں ایک وفد نے اتوار کو ڈھاکہ میں آرمی ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی
ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی ٹی) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل شاکر اللہ خٹک کی قیادت میں ایک وفد نے اتوار کو ڈھاکہ میں آرمی ہیڈکوارٹرز میں بنگلہ دیش آرمی کے سربراہ جنرل وقار الزمان سے ملاقات کی۔
بنگلہ دیش آرمی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری بیان میں کہا کہ دو طرفہ ملاقات کے دوران باہمی نیک خواہشات کے تبادلے کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے مختلف مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا ، جو 1971 میں قائم ہوئی، ایک بڑا فوجی صنعتی کمپلیکس ہے اور ملک کی سب سے بڑی دفاعی مصنوعات بنانے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے عسکری حکام کے درمیان یہ اعلیٰ سطح اجلاس اس سے دو ماہ سے زائد عرصہ بعد ہوا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی فوجی حفاظت کا معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان نے دیگر دوست ممالک کو بھی اس سے مشابہہ دفاعی معاہدہ کرنے کی پیشکش کی تھی۔
سعودی عرب اور جوہری ہتھیار رکھنے والا پاکستان ایک باہمی دفاعی معاہدے پر پہنچے، جس سے طویل عرصے سے قائم سیکیورٹی شراکت داری کو مضبوطی ملی، اور یہ تب ہوا جب اسرائیل کے قطر پر حملے نے خطے میں سفارتی توازن کو متاثر کیا۔
یہ مضبوط دفاعی تعلقات اس وقت سامنے آئے جب خلیجی عرب ممالک نے امریکہ کی سیکیورٹی گارنٹی پر اعتماد میں کمی محسوس کی۔ پاکستان واحد جوہری ہتھیار رکھنے والا مسلم اکثریتی ملک ہے اور اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فوج بھی رکھتا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ دفاعی معاہدہ دیگر خلیجی ممالک تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد اس معاہدے کو کسی جارحیت کے لیے استعمال کرنا نہیں، مگر اگر فریقین کو خطرہ لاحق ہوا تو یہ انتظام فوری طور پر فعال ہو جائے گا۔
ادھر، ہاشمی سلطنت اردن کے بادشاہ اور اردن آرمی کے سپریم کمانڈر، کنگ عبد اللہ دوم نے 16 نومبر کو راولپنڈی میں گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سولیوشنز (جی آئی ڈی ایس) کا دورہ کیا۔
دورے کے دوران اردن کے بادشاہ کو جی آئی ڈی ایس کے ڈھانچے، صلاحیتوں، اور مصنوعات کے پورٹ فولیو کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی، جس میں پاکستان کی ملکی دفاعی پیداوار، تکنیکی جدت، اور پاکستان اور اردن کے درمیان دو طرفہ دفاعی تعاون کے ممکنہ مواقع دکھائے گئے۔






















Comments
Comments are closed.