جے ایف -17 تھنڈر دبئی ایئرشو میں عالمی توجہ کا مرکز، بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے فخر کی علامت
- دفاعی ماہرین، ہوابازی کے شوقین اور بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی فضائی صلاحیت کی تعریف کی
پاکستان کا جے ایف-17 تھنڈر فائٹر جیٹس دبئی ایئرشو 2025 میں عالمی توجہ کا مرکز رہا، یہ ایئر شو 17 سے 21 نومبر تک منعقد ہوا، جس میں 98 ممالک سے 200 سے زائد طیارے شریک ہوئے۔ یہ جیٹس پاکستان ایئر فورس کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی رفتار، درستگی اور ماہرانہ منیورز سے حاضرین کو متاثر کیا۔
دفاعی ماہرین، ہوابازی کے شوقین اور بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی فضائی صلاحیت کی تعریف کی۔ ان طیاروں کی کارکردگی، جس کی پشت پناہی پاکستان کی حالیہ کامیابیوں، جیسے آپریشن بنیان مرصوص اور پاکستان-بھارت سرحدی تنازع کے دوران پیشہ ورانہ مہارت نے کی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان نے صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے آگے بڑھ کر اسے تخلیق کرنا شروع کر دیا ہے۔
پاکستان کی نمائندگی دو جے ایف -17 بلاک تھری طیاروں نے کی۔ ایک نے متحرک پرواز کے مظاہرے کیے جبکہ دوسرا مندوبین اور زائرین کے لیے اسٹاٹک ڈسپلے پر رکھا گیا۔ جیٹس کے جدید ڈیزائن، جدید نظام اور جنگی تیاری نے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
مشاہدین اور دفاعی تجزیہ کاروں نے پاکستان کی تکنیکی کامیابی کو اجاگر کیا۔ جے ایف-17 بلاک تھری پھرتیلا، سستا اور قابل اعتماد ہے۔ کئی بین الاقوامی مندوبین نے ان طیاروں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی۔ یہ طیارے صرف دفاعی آلات نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اب عالمی سطح پر تخلیق کار بھی بن چکا ہے۔ اصل طاقت صرف طیاروں میں نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود پائلٹس اور صنعتی ماہرین میں ہے۔ جے ایف-17 پاکستان کے وسیع فضائی اثاثے کا صرف ایک حصہ ہے۔
سوشل میڈیا پر فخر کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کمنٹس میں اکثر کہا جا رہا تھا کہ ہمارے بہادر ہیروز نے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا۔
کینیڈا کی سارہ خان نے کہا کہ ہمارے ایئر فورس کی عالمی سطح پر کارکردگی دیکھ کر دل فخر سے بھر جاتے ہیں۔ جے ایف-17 صرف ایک جیٹ نہیں، یہ پاکستان کی ہمت، مہارت اور عمدگی ہے جو آسمانوں میں اڑ رہی ہے۔
برطانیہ کے عمر علی نے کہا کہ ہزاروں میل دور بھی ہم قوم کی طاقت سے جڑے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ ہماری ایئر فورس اور اس کے انجینئرز دنیا کو پاکستان کی روح دکھا رہے ہیں۔
جوان پائلٹ جس نے مظاہرے کی پرواز کی، ہمت کی علامت بن گیا۔ اس کے دلیرانہ منیورز اور درست کارکردگی کی وسیع پیمانے پر تعریف کی گئی۔ سابق افسران اور اہلکاروں نے پائلٹس، انجینئرز اور طیارہ سازی کے ماہرین سمیت پوری ٹیم کی محنت، مہارت اور پیشہ ورانہ قابلیت کو سراہا۔
طلبہ اور انجینئرز متاثر ہوئے۔ عالمی سطح پر جیٹس کو دیکھ کر ہوابازی، دفاعی ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ میں کریئر بنانے کے خواب جڑے۔ کالجز اور تربیتی اداروں میں فضائی صنعت میں کیریئر کے حوالے سے گفتگو میں اضافہ ہوا۔






















Comments
Comments are closed.