ٹیجس جیٹ کا حادثہ: بھارت کی دفاعی تیاری پر نئے سوالات اٹھ گئے
- ہندوستانی فضائیہ نے بارہا اس طیارے کی کارکردگی، پرواز کی حد اور دیکھ بھال کے تقاضوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیاہے
**
ہندوستان کی کوشش کہ وہ دبئی ایئر شو میں اپنے مقامی ساختہ ٹیجس فائٹر جیٹ کو اجاگر کرے، ناکام ثابت ہوئی جب یہ طیارہ ریہرسل پرواز کے دوران حادثاتی طور پر گر کر تباہ ہو گیا جس سے بھارت کی دفاعی تیاری اور مینوفیکچرنگ کے معیار پر نئے سوالات اٹھ گئے۔**
پاکستانی دفاعی حکام کے مطابق ٹیجس طیارہ اڑان کے چند لمحوں بعد گرگیا اور ابتدائی ویڈیوز و تصاویر میں ممکنہ ساختی یا تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی کی گئی جو پرواز سے پہلے موجود ہو سکتی تھیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ٹیجس پروگرام میں طویل عرصے سے رپورٹ شدہ خامیوں کی جانب توجہ مبذول کرائی، جن میں پینل کی غیر مساوی ترتیب، لیکیج، کمپن کے مسائل اور کم رفتار پر استحکام کے چیلنج شامل ہیں۔
ہندوستانی فضائیہ نے بارہا اس طیارے کی کارکردگی، پرواز کی حد اور دیکھ بھال کے تقاضوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جی ای-404 انجن کا فریم کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہ ہونا، نامکمل سافٹ ویئر انٹیگریشن اور زیر التواء ریڈار اپ گریڈز کو بھی تشویش کا باعث قرار دیا گیا ہے۔
ہندوستانی ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے حال ہی میں جاری کردہ بیانات میں بڑے دفاعی منصوبوں میں تاخیر، غیر حقیقی ٹائم لائنز اور خریداری میں خلا کو تسلیم کیا تھا، اور یہ تبصرے دوبارہ سامنے آئے جب دبئی ایئر شو کے حادثے نے طیارے کی ساختی کمزوریوں کو مزید نمایاں کر دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، طیارے کو ایک نمایاں بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پرواز دینے کا فیصلہ، باوجود اس کے کہ اس میں واضح نقائص موجود تھے، بھارت کے دفاعی نظام میں بنیادی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سیاسی دباؤ اور شبیہ سازی تکنیکی تیاری اور حفاظتی یقین دہانی پر غالب ہیں۔
یہ حادثہ بھارت کی دفاعی صنعت میں خود انحصاری کے دعوے کو دھندلا کر رکھ گیا ہے اور اس کی ادارہ جاتی صلاحیت، انجینئرنگ کے عمل اور معیار پر قابو پانے کے طریقہ کار پر عالمی سطح پر دوبارہ توجہ مبذول کروا دیا ہے۔ اگرچہ تفتیش جاری ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ گہرے مسائل کی عکاسی کرتا ہے جنہیں بیانیہ یا میڈیا پروموشن سے چھپایا نہیں جا سکتا۔
























Comments
Comments are closed.