ہری پور ضمنی انتخاب سے قبل مبینہ دھمکی آمیز بیانات، ای سی پی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو طلب کر لیا
- صوبائی الیکشن کمشنر کو عملے کے تحفظ کے لیے پولیس کی جانب سے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت جاری
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے این اے 18 کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب سے متعلق “غیر ذمہ دارانہ” اور “دھمکی آمیز” تبصروں کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں جمعہ کو طلب کر لیا ہے۔
ایبٹ آباد کے علاقے حویلیاں میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سرکاری افسران کو متنبہ کیا تھا کہ وہ 23 نومبر کو ہونے والے ہری پور ضمنی انتخاب کے نتائج میں ہیرا پھیری یا تبدیلی کی کوششوں سے باز رہیں۔
الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے مقامی انتظامیہ، پولیس اور انتخابی عملے کے اہلکاروں کو دھمکیاں دی ہیں اور اس موقع پر موجود عوام کو بھی بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔
الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے کہا ہے کہ صوبائی سربراہ کا غیر ذمہ دارانہ رویہ نہ صرف این اے 18 ہری پور میں پرامن ضمنی انتخاب کے انعقاد کو پیچیدہ بنا رہا ہے، بلکہ ضلع انتظامیہ، پولیس، انتخابی عملے اور ووٹرز کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب کی اہلیہ شہرناز عمر ایوب کو انتخابات کے قانون 2017 اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جمعہ کے روز طلب کر لیا ہے۔
شہرناز قومی اسمبلی کی نشست این اے 18 پر انتخاب لڑ رہی ہیں، جو اگست میں اس وقت خالی ہوئی تھی جب ان کے شوہر کو 9 مئی 2023 کے فسادات سے متعلق مقدمات میں سزا کے بعد نااہل قرار دیا گیا تھا۔
ای سی پی نے مزید کہا ہے کہ صوبائی الیکشن کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر کے پی چیف سیکرٹری شهاب علی شاہ اور صوبائی پولیس چیف سے ملاقات کر کے ضروری حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں اور اس کے بعد تفصیلی رپورٹ کمیشن کو پیش کریں۔
الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کو بھی خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں صوبائی اور وفاقی سیکورٹی اداروں کی مدد سے مکمل حفاظتی انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ ضلع کے ریٹرننگ افسران، دیگر عملہ، ووٹرز اور پولنگ اسٹیشنز سے انتخابی مواد کی منتقلی کے دوران حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ای سی پی نے واضح طور پر انتخاب کے پرامن انعقاد میں مداخلت کرنے والے کسی بھی شخص یا عوامی عہدیدار کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔
























Comments
Comments are closed.