پاکستانی اے آئی اسٹارٹ اپ جیمز اوپن اے آئی کا حصہ بن گیا
- اسد اعوان اور حمزہ افتاب کی قائم کردہ کمپنی اب دنیا کی معروف اے آئی کمپنی کے ساتھ کام کرے گی
ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم سنگ میل کے طور پر پاکستان کی جنریٹو اے آئی اسٹارٹ اپ جیمز (جے اے ایم ایس) جس کی بنیاد اسد اعوان اور حمزہ افتاب نے رکھی تھی، دنیا کی معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی (اوپن اے آئی) کا حصہ بن گئی، جو چیٹ جی پی ٹی کی خالق ہے۔
یہ اعلان اسد اعوان نے لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ یہ خبر شیئر کرتے ہوئے مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم اوپن اے آئی کا حصہ بن رہے ہیں۔
حمزہ افتاب اور میں نے جیمز اس وژن کے ساتھ شروع کی تھی کہ عام لوگوں کے لیے بہترین اے آئی تجربات تخلیق کیے جائیں اور اب ہمیں خوشی ہے کہ ہم اپنے اس وژن کو دورِ حاضر کے بہترین پروڈکٹ اور اے آئی بلڈرز کے ساتھ جاری رکھ سکیں گے۔
دو سابق میٹا (ایم اے ٹی اے) انجینئرز کی قائم کردہ کمپنی جیمز جنریٹو اے آئی کی مدد سے مستند ویڈیو تجربات تخلیق کرتی ہے۔ یہ اسٹارٹ اپ 2022 میں امریکی سرمایہ کار کمپنی آندریسن ہورووٹز (Andreessen Horowitz - a16z) اور پاکستان کی وینچر کیپیٹل فرم انڈس ویلی کیپیٹل (Indus Valley Capital - IVC) سے سرمایہ حاصل کر چکی ہے۔
یہ معاہدہ انڈس ویلی کیپیٹل کے لیے بھی اہم کامیابی ہے کیونکہ یہ ان کی پہلی ایگزٹ (اے ایکس آئی ٹی) ہے یعنی ان کے کسی سرمایہ کاری منصوبے کا کامیاب حصول۔
انڈس ویلی کیپیٹل کے بانی عاطف اعوان نے جیمز ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی ٹیلنٹ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا یہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ جیمز کے اوپن اے آئی میں شامل ہونے کے ساتھ انڈس ویلی کیپیٹل نے اپنی پہلی ایگزٹ حاصل کی۔
جیمز ایسی ویڈیو ٹیکنالوجی تیار کرتا ہے جو جنریٹو اے آئی کی بہترین صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے حقیقی تجربات تخلیق کرتی ہے۔ اسد اعوان اور حمزہ افتاب کو مبارکباد ہو ، جن کے ساتھ کام کرنا ہمارے لیے باعثِ فخر رہا۔
عاطف اعوان نے یہ بھی بتایا کہ جیمز ان کی فرم کی نئی سرمایہ کاری حکمتِ عملی کے تحت پہلا منصوبہ تھا، جس کے تحت وہ دنیا بھر میں پاکستانیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، خاص طور پر ان پاکستانیوں میں جو امریکہ میں مقیم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیاب ایگزٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم غیر معمولی بانیان پاکستان کو دنیا کے کسی بھی کونے میں پہچاننے اور ان کے ساتھ شراکت داری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم مستقبل میں اسی حکمتِ عملی پر مزید توجہ دیں گے۔
یہ پیش رفت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستانی ماہرین اب جدید ترین ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔






















Comments
Comments are closed.