پاکستان کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارتی فوجی قیادت کو خبردار کیا کہ جوہری ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی اشتعال انگیزی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) میں 152ویں لانگ کورس، 26ویں لیڈی کیڈٹ کورس اور 37ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بھارت کو عالمی اصولوں کے مطابق بنیادی مسائل حل کرنے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کبھی کسی دھمکی یا بیان بازی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ حالیہ معرکۂ حق اور آپریشن بنیانِ مرصوص نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قوم کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جدید رافیل طیارے گرا کر، دشمن کے متعدد اڈے — بشمول ا یس-400 — کو نشانہ بنا کر اور کثیر الجہتی عسکری صلاحیتیں دکھا کر اپنی قوت ثابت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے ہر عمر، رنگ، نسل اور عقیدے سے بالاتر ہو کر اتحاد کا مظاہرہ کیا، جس سے قوم میں حب الوطنی اور ولولے کی نئی روح پیدا ہوئی۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے آج تک مسلح افواج نے عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ ملک کی سرحدوں کا دفاع کیا ہے۔
کشمیر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کا خواہاں ہے۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کو قابو میں لائے، کیونکہ ہر پراکسی جنگ مٹی میں ملا دی جائے گی۔
سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کو انہوں نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں جبکہ چین کے ساتھ تاریخی شراکت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں عالمی تنازعات کے حل کے لیے کوششوں کو سراہا۔
غزہ کے بارے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ دنیا نے آخرکار اسرائیلی جارحیت اور مظالم کا نوٹس لیا ہے، اور پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی کے اقدامات ممکن ہوئے ہیں۔ انہوں نے دو ریاستی حل کی حمایت دہراتے ہوئے کہا کہ فلسطین کو 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک خودمختار ریاست ملنی چاہیے جس کا دارالحکومت القدس ہو۔
آخر میں، انہوں نے پاس آؤٹ ہونے والے پاکستانی اور دوست ممالک — ملائیشیا، نیپال، فلسطین، قطر، سری لنکا، یمن، مالدیپ، بنگلہ دیش، مالی اور نائیجیریا — کے کیڈٹس کو کامیابی پر مبارکباد دی۔






















Comments
Comments are closed.