زراعت، لائیو اسٹاک اور بلیو اکانومی میں اصلاحات: ایس آئی ایف سی کے تحت اقدامات تیز
پاکستان زرعی، لائیو اسٹاک اور بلیو اکانومی کے شعبوں میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت اصلاحات کو تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور ملک کی زرعی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق حکومت کے گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت شروع کی جانے والی یہ اصلاحات جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار طریقوں کو زرعی نظام میں شامل کرنے، پیداوار میں اضافہ کرنے، غذائی تحفظ کو بہتر بنانے اور برآمدات کی صلاحیت بڑھانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔
اس حکمت عملی کا اہم جزو لیمز پاکستان ہے، جو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے سیٹلائٹ امیجری اور ڈیٹا اینالیٹکس کی مدد سے کسانوں کو آبپاشی، کیڑوں کے تدارک اور فصلوں کی پیش گوئی کے حوالے سے فوری رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح، فارم گرو پروگرام مویشیوں کی ترقی پر مرکوز ہے، جس کا مقصد سائنسی نسل کشی، بہتر غذائیت اور ویٹرنری نگہداشت کے ذریعے اس شعبے کی کارکردگی اور پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
ایس آئی ایف سی بلیو اکانومی کے فروغ کیلئے آبی زراعت (Aquaculture) کو بھی ترجیح دے رہا ہے جس کے تحت مچھلیوں کی افزائشِ نسل، سمندری حیاتیاتی تنوع میں بہتری اور ساحلی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے منصوبے جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپز اور بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کے ماڈلز کے ذریعے آگے بڑھائی جا رہی ہیں اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں دونوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ خود کفالت کی جانب گامزن ہے اور اس کی پشت پناہی ایک ایسا پالیسی فریم ورک کر رہا ہے جو ٹیکنالوجی، تحقیق اور سرمایہ کاری کو طویل مدتی ترقی کے لیے مربوط کرتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.