پاکستان آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاپام ) نے حکومت کی نئی درآمدی پالیسی کی بھرپور حمایت کی ہے، جو 30 ستمبر 2025 کو درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے حفاظتی، معیاری اور ماحولیاتی اصول کے تحت جاری کی گئی۔
پاپام نے آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی ایم ڈی اے) کے اعتراضات کو گمراہ کن اور ملکی صنعتی مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔ چیئرمین پاپام عثمان اسلم ملک کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر مقررہ ڈیوٹی اور عمر کے حساب سے رعایت نے مقامی صنعت کو نقصان پہنچایا، جس سے 2024-25 میں 60 ارب روپے سے زائد کا وینڈر ریونیو ضائع اور 40 ہزار ملازمتیں ختم ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ درآمدات نہ صرف ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں بلکہ غیر رجسٹرڈ معیشت اور کالے دھن کو فروغ دیتی ہیں۔ پاپام نے اے پی ایم ڈی اے کے ان مطالبات کو مسترد کیا ہے جن میں انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی ) کی نگرانی ختم کرنے اور ڈیوٹیز کم کرنے کی بات کی گئی۔
نظرثانی شدہ پالیسی کے تحت پہلے سال 40 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی گئی ، جو 2030 تک بتدریج کم ہوگی، جبکہ گاڑیوں کی حفاظت اور ماحولیاتی معیار کی منظوری ای ڈی بی سے لازمی ہوگی۔
پاپام نے مزید کہا کہ مقامی صنعت 65 فیصد ویلیو ایڈیشن اور اقوامِ متحدہ کے معیار کی سیفٹی پر عمل کر رہی ہے اور اب صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔






















Comments
Comments are closed.