BR100 Decreased By (-0.62%)
BR30 Decreased By (-0.88%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.44%)
BAFL 56.38 Decreased By ▼ -0.09 (-0.16%)
BIPL 24.77 Increased By ▲ 0.14 (0.57%)
BOP 29.96 Decreased By ▼ -0.16 (-0.53%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.91 (5.2%)
DGKC 184.90 Decreased By ▼ -2.32 (-1.24%)
FABL 93.30 Decreased By ▼ -0.41 (-0.44%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.48 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
GGL 18.90 Decreased By ▼ -0.14 (-0.74%)
HBL 302.00 Decreased By ▼ -1.78 (-0.59%)
HUBC 197.51 Decreased By ▼ -1.45 (-0.73%)
HUMNL 9.85 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.03 (-0.5%)
LOTCHEM 26.03 Decreased By ▼ -0.14 (-0.53%)
MLCF 89.25 Decreased By ▼ -1.98 (-2.17%)
OGDC 313.20 Decreased By ▼ -0.19 (-0.06%)
PAEL 34.94 Decreased By ▼ -0.30 (-0.85%)
PIBTL 14.22 Decreased By ▼ -0.49 (-3.33%)
PIOC 234.20 Decreased By ▼ -5.42 (-2.26%)
PPL 219.00 Decreased By ▼ -2.36 (-1.07%)
PRL 91.35 Increased By ▲ 0.13 (0.14%)
SNGP 90.74 Decreased By ▼ -0.13 (-0.14%)
SSGC 23.32 Increased By ▲ 0.02 (0.09%)
TELE 7.50 Decreased By ▼ -0.11 (-1.45%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 55.05 Decreased By ▼ -0.74 (-1.33%)
UNITY 7.98 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

پاکستان آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاپام ) نے حکومت کی نئی درآمدی پالیسی کی بھرپور حمایت کی ہے، جو 30 ستمبر 2025 کو درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے حفاظتی، معیاری اور ماحولیاتی اصول کے تحت جاری کی گئی۔

پاپام نے آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی ایم ڈی اے) کے اعتراضات کو گمراہ کن اور ملکی صنعتی مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔ چیئرمین پاپام عثمان اسلم ملک کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر مقررہ ڈیوٹی اور عمر کے حساب سے رعایت نے مقامی صنعت کو نقصان پہنچایا، جس سے 2024-25 میں 60 ارب روپے سے زائد کا وینڈر ریونیو ضائع اور 40 ہزار ملازمتیں ختم ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ درآمدات نہ صرف ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں بلکہ غیر رجسٹرڈ معیشت اور کالے دھن کو فروغ دیتی ہیں۔ پاپام نے اے پی ایم ڈی اے کے ان مطالبات کو مسترد کیا ہے جن میں انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی ) کی نگرانی ختم کرنے اور ڈیوٹیز کم کرنے کی بات کی گئی۔

نظرثانی شدہ پالیسی کے تحت پہلے سال 40 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی گئی ، جو 2030 تک بتدریج کم ہوگی، جبکہ گاڑیوں کی حفاظت اور ماحولیاتی معیار کی منظوری ای ڈی بی سے لازمی ہوگی۔

پاپام نے مزید کہا کہ مقامی صنعت 65 فیصد ویلیو ایڈیشن اور اقوامِ متحدہ کے معیار کی سیفٹی پر عمل کر رہی ہے اور اب صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔

Comments

Comments are closed.