اسلامی بینکاری پاکستان میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے اور اب اس کا حصہ پورے بینکنگ نظام کا ایک چوتھائی تک پہنچ گیا ہے جب کہ تقریباً 20 سال قبل یہ صفر تھا۔ یہ بات اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر عشرت حسین نے میزان بینک کی کتاب غیر روایتی وہ بینک جسے کسی نے نہ دیکھا کی تقریب اجرا کے دوران کہی۔
عشرت حسین نے کہا کہ بہت سے کاروبار جو پہلے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر روایتی بینکاری سے اجتناب کرتے تھے اب اسلامی مالیات میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اسلامی بینکاری نے بچت کو فروغ دیا، قومی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا اور معیشت کو فائدہ پہنچایا۔
عشرت حسین نے کہا کہ اسلامی بینکاری کا حصہ تقریباً 20 سال قبل صفر سے بڑھ کر ملک کے بینکنگ شعبے کا 25 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی بینکاری مالی شمولیت کو فروغ دے سکتی ہے، غربت کم کرسکتی ہے، کسانوں اور کاروباری افراد کی مدد کر سکتی ہے اور انسانی سرمایہ کاری میں اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ سستی رہائش فراہم کرسکتی ہے، آمدنی کی تقسیم بہتر بناسکتی ہے اور جامع ترقی ممکن بنا سکتی ہے۔ کیپٹل ازم جو اکثر حاشیے پر موجود افراد کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے، یا سوشلزم جو اپنے وزن تلے بیٹھ جاتا ہے کے برعکس اسلامی مالیات ایک متوازن راستہ پیش کرتی ہے، جو کارکردگی اور انصاف، ترقی اور عدل کو ساتھ جوڑتی ہے۔
دریں اثنا ایس بی پی کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے کہا کہ پاکستان کی بینکنگ صنعت دسمبر 2027 تک مکمل طور پر اسلامی بینکاری میں تبدیل ہوسکتی ہے، جو کہ وفاقی شریعت کورٹ کی مقررہ ڈیڈ لائن ہے۔
دوسری جانب ایس بی پی کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے کہا کہ پاکستان کی بینکنگ صنعت دسمبر 2027 تک مکمل طور پر اسلامی بینکاری میں تبدیل ہوسکتی ہے جو کہ وفاقی شریعت کورٹ کی مقررہ ڈیڈ لائن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکاری کا سفر اطمینان بخش طور پر تیزی پکڑ رہا ہے اور یہ راستے پر ہے۔
ریگولیٹری محاذ پر سلیم اللہ نے کہا کہ مرکزی بینک بینکنگ صنعت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا تاکہ اسلامی مالیات کی ترقی کیلئے ریگولیٹری فریم ورک سازگار رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ترقی طلب کے تحت ہو۔ اقدار اور فوائد ایسے ہوں کہ یہاں تک کہ روایتی سوچ بھی اسلامی مالیات اور اسلامی بینکاری کی خدمات کی طرف کھنچتی جائے، ہم مکمل طور پر پرعزم ہیں اور پراعتماد ہیں کہ ریگولیٹری اور قانونی فریم ورک حمایت یافتہ رہیں گے۔
مزید برآں عرفان صدیقی، سی ای او میزن بینک نے اعلان کیا کہ وہ دسمبر 2025 میں 70 سال کی عمر میں اس عہدے سے ریٹائر ہوں گے اور ان کے نائب سی ای او سید عامر علی اس عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔






















Comments
Comments are closed.