BR100 Decreased By (-0.89%)
BR30 Decreased By (-1.6%)
KSE100 Decreased By (-0.82%)
KSE30 Decreased By (-0.83%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.22 (-1.68%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.00 Decreased By ▼ -4.45 (-2.31%)
FABL 93.98 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
FCCL 51.93 Decreased By ▼ -0.86 (-1.63%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 19.07 Decreased By ▼ -0.49 (-2.51%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 199.00 Decreased By ▼ -2.42 (-1.2%)
HUMNL 9.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.67%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 90.90 Decreased By ▼ -2.26 (-2.43%)
OGDC 312.96 Decreased By ▼ -3.77 (-1.19%)
PAEL 35.09 Decreased By ▼ -0.54 (-1.52%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -4.71 (-1.94%)
PPL 220.90 Decreased By ▼ -6.01 (-2.65%)
PRL 90.86 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
SNGP 90.94 Decreased By ▼ -0.90 (-0.98%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.60 (-2.52%)
TELE 7.52 Decreased By ▼ -0.28 (-3.59%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.15 Decreased By ▼ -0.41 (-0.72%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے منگل کے روز ستمبر کے لیے صارف افراطِ زر (کنزیومر انفلیشن) کی شرح 3.5 فیصد سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وزارت کے مطابق مہنگائی کا یہ تخمینہ حالیہ سیلاب سے پیدا ہونے والی ترسیلی رکاوٹوں اور رسد میں خلل کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے لگایا گیا ہے۔

وزارتِ خزانہ نے اپنی ماہانہ معاشی جائزہ رپورٹ میں بتایا کہ حالیہ سیلابی صورتحال کے باوجود معاشی سرگرمیاں مجموعی طور پر مستحکم رہی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کی بحالی، سیمنٹ کی ترسیل، آٹوموبائل کی پیداوار اور متعلقہ صنعتوں میں حوصلہ افزا رجحانات کے باعث آئندہ ماہ میں صنعتی رفتار مضبوط و مستحکم ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔

پاکستان کو رواں سال کے طویل مون سون سیزن کے دوران شدید سیلابی صورتحال کا سامنا رہا جو جون کے آخر سے شروع ہو کر ستمبر میں مزید شدت اختیار کر گیا۔ یہ تباہی زیادہ تر گنجان آباد علاقوں خصوصاً پنجاب میں دیکھنے میں آئی۔

وزارتِ خزانہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بیرونی شعبہ بھی مستحکم رہنے کی توقع ہے اور موجودہ کھاتہ خسارہ درآمدی طلب میں اضافے کے باوجود قابو میں رہے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ترسیلات زر معیشت کو مضبوط سہارا فراہم کر رہی ہیں، برآمدات میں بحالی کے ابتدائی آثار نظر آ رہے ہیں اور عالمی سطح پر کموڈٹی قیمتوں میں کمی درآمدی بل کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

مگر سیلاب سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں خوراک کی سپلائی چین پر دباؤ ڈال سکتی ہیں جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے مہنگائی عارضی طور پر بڑھنے کی توقع ہے لیکن ستمبر 2025 میں یہ 3.5 سے 4.5 فیصد کی حد میں ہی رہے گی۔

ارادہ شمارات پاکستان کے مطابق اگست 2025 میں گزشتہ سال کے مقابلےمیں مجموعی مہنگائی کی شرح 3 فیصد رہی، جو جولائی 2025 کے 4.1 فیصد سے کم تھی۔

ادھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی حالیہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک نے اس فیصلے کی وجہ حالیہ سیلاب کے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو قرار دیا ہے۔

Comments

Comments are closed.