ٹرمپ کی ویزا پابندیاں: امریکی کمپنیاں کام بھارت منتقل کرنے پر مجبور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایچ ون بی ویزے میں سختیوں کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ اب امریکی کمپنیاں اپنا اہم کام بھارت منتقل کرنے میں تیزی دکھائیں گی، جس سے عالمی قابلیت مراکز (جی سی سی ایس) کو تقویت ملے گی۔
یہ مراکز ٹیکنالوجی سپورٹ سے آگے بڑھ کر فنانس، ریسرچ، مصنوعی ذہانت اور پروڈکٹ ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں جدت کا مرکز بن چکے ہیں۔
اس وقت بھارت دنیا کے نصف سے زائد یعنی 1700 سے زیادہ جی سی سی ایس کا میزبان ہے اور اندازہ ہے کہ 2030 تک ان کی تعداد 2 ہزار 2 سو سے بڑھ جائے گی، جس سے یہ شعبہ 100 ارب ڈالر کی مارکیٹ بن سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ویزا پابندیوں، بڑھتی ہوئی فیس اور امریکی قوانین میں مزید سختی کے باعث کمپنیاں زیادہ تیزی سے بھارت، میکسیکو یا کینیڈا جیسے ممالک کی طرف رجوع کر رہی ہیں۔
اگرچہ کچھ ماہرین ممکنہ 25 فیصد ٹیکس کے خدشے کے پیشِ نظر محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن مجموعی رجحان یہی ہے کہ امریکی کمپنیاں بھارت میں اپنے جی سی سی ایس کے ذریعے جدت اور اسٹریٹجک کام کو ترجیح دیں گی، جس سے بھارت کے آئی ٹی اور خدماتی شعبے کو نئی تقویت ملے گی۔






















Comments
Comments are closed.