امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درآمدی لکڑی،اس کی مصنوعات پر 10 فیصد جبکہ باورچی خانے کے کیبنٹس، باتھ روم وینٹیز اور آرام دہ فرنیچر پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ ڈیوٹیاں 14 اکتوبر سے نافذ ہوں گی اور یکم جنوری سے ان کی شرح بڑھا کر بالترتیب 30 اور 50 فیصد تک کی جا سکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے میں ناکام رہیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ لکڑی اور فرنیچر کی درآمدات امریکی قومی سلامتی اور معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ملوں کی بندش، سپلائی چین میں رکاوٹ اور ملکی صنعت کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق لکڑی دفاعی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یہ اقدام کینیڈا کے لیے بڑا دھچکا ہے جو امریکہ کو نرم لکڑی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور پہلے ہی 35 فیصد تک کے ٹیرف برداشت کر رہا ہے۔
کینیڈا نے اپنے پروڈیوسرز کے لیے 1.2 بلین کینیڈین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جب کہ اس اقدام سے میکسیکو اور ویتنام بھی متاثر ہوں گے جو امریکہ کو لکڑی کا فرنیچر بڑی مقدار میں سپلائی کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ برطانیہ، یورپی یونین اور جاپان جیسے ممالک کے ساتھ طے شدہ فریم ورک کے تحت ٹیرف بالترتیب 10 اور 15 فیصد تک محدود رہیں گے، تاہم ویتنام کے ساتھ معاہدے کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔
امریکی چیمبر آف کامرس نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ امریکی کاروباروں، تعمیراتی اخراجات اور برآمدات پر بوجھ ہے۔ نئی ڈیوٹیوں کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں کمی ریکارڈ کی گئی۔






















Comments
Comments are closed.