صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو غزہ میں تقریباً دو سالہ جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی سرپرستی میں پیش کی گئی امن تجویز پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حمایت حاصل کر لی تاہم یہ واضح نہیں کہ حماس اسے قبول کرے گی یا نہیں۔
ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ معاہدے کے بہت قریب ہیں، اگر حماس نے اس پیشکش مسترد کردیا تو اسرائیل کو امریکی حمایت حاصل ہوگی۔
وائٹ ہاؤس نے 20 نکات پر مشتمل منصوبہ جاری کیا ہے جس میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کے تبادلے، غزہ سے اسرائیلی انخلاء، حماس کی عسکری صلاحیت میں کمی اور بین الاقوامی ادارے کی سربراہی میں عبوری حکومت شامل ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ یہ منصوبہ اسرائیل کے جنگی مقاصد پورا کرتا ہے، تمام یرغمالیوں کو بھی واپس لائے گا اور غزہ کو دوبارہ خطرہ نہ بننے دے گا۔
حماس نے باضابطہ دستاویز موصول ہونے کی تردید کی، تاہم قطر اور مصر نے کہا کہ انہوں نے اسے حماس کو بھیج دیا ہے اور وہ نیک نیتی سے جائزہ لیں گے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ معاہدہ ممکن ہے مگر عملدرآمد کے لیے قطری ثالثی اور نیتن یاہو کی کابینہ کی منظوری ضروری ہے۔
























Comments
Comments are closed.