گرین، بلیو و دیگر مالیاتی ذرائع: سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایس ایف ایف متعارف
- فریم ورک گرین، بلیو، سماجی اور پائیداری سے منسلک مالیاتی ذرائع، بشمول بانڈز اور سکوک، کے ذریعے سرمایہ کاری کو متحرک کرے گا
وزارتِ خزانہ نے پائیدار مالیاتی فریم ورک (ایس ایف ایف) 2025 متعارف کرایا جس کا مقصد ماحولیاتی اور سماجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ یہ فریم ورک گرین، بلیو، سماجی اور پائیداری سے منسلک مالیاتی ذرائع، بشمول بانڈز اور سکوک، کے ذریعے سرمایہ کاری کو متحرک کرے گا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ فریم ورک پاکستان کی قرضہ جاتی حکمتِ عملی کو عالمی مالیاتی مارکیٹ کے اصولوں سے ہم آہنگ کرے گا، جس کے تحت ملک قابلِ تجدید توانائی، ماحول دوست ٹرانسپورٹ، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، سماجی بہبود اور غربت کے خاتمے جیسے شعبوں کے لیے فنڈز تک رسائی حاصل کر سکے گا۔
فریم ورک کے تحت اہل گرین منصوبوں میں شمسی توانائی، ہوا سے بجلی کی پیداوار، چھوٹے پن بجلی منصوبے، توانائی کی بچت و مؤثر استعمال، پائیدار زراعت، ماحول دوست ٹرانسپورٹ اور گرین عمارتیں شامل ہوں گی۔ دوسری جانب سماجی اخراجات صحت، تعلیم، سستی رہائش، روزگار کے مواقع، غذائی تحفظ اور خواتین کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہوں گے۔
منصوبے کے تحت فوسل فیولز، ایٹمی توانائی، تمباکو، جوا، اسلحہ سازی اور ایسی صنعتوں کے لیے مالی معاونت کو خارج کر دیا گیا ہے جو جبری یا بچوں سے مزدوری میں ملوث ہوں۔
عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک خودمختار پائیدار مالیاتی کمیٹی قائم کی جائے گی جس کی سربراہی سیکریٹری خزانہ کریں گے۔ اس کمیٹی میں قرضہ جات دفتر، منصوبہ بندی کمیشن، وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی اور اسٹیٹ بینک کے نمائندے شامل ہوں گے، جو منصوبوں کے انتخاب، نگرانی اور اثرات کی رپورٹنگ کو یقینی بنائیں گے۔
حکومت کا منصوبہ ہے کہ کم از کم 50 فیصد حاصل شدہ رقوم نئے اخراجات کے لیے مختص کی جائیں۔ ساتھ ہی شفاف تقسیم اور سالانہ اثرات کی رپورٹنگ کو بھی یقینی بنایا جائے گا، جو انٹرنیشنل کیپٹل مارکیٹ ایسوسی ایشن (ICMA) اور لون مارکیٹ ایسوسی ایشن (LMA) کے عالمی معیار کے مطابق ہوگی۔
اس فریم ورک کو سسٹین ایبل فِچ کی جانب سے ”سیکنڈ پارٹی اوپینین“ مل چکی ہے، جس میں اس کی عالمی پائیدار مالیاتی رہنما اصولوں کے ساتھ مطابقت کی تصدیق کی گئی ہے۔
یہ اقدام پاکستان کے پیرس معاہدے کے تحت طے شدہ قومی شراکتوں کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جن کا مقصد 2030 تک متوقع اخراجات میں 50 فیصد کمی ہے، جو بین الاقوامی تعاون پر مشروط ہے۔
وزارتِ خزانہ کے بقول ایس ایف ایف ہمیں ایک قابلِ اعتماد نظام فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے ماحولیاتی اور سماجی مالی معاونت کو مربوط کیا جا سکتا ہے، لچک کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور جامع ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت اپنی حکمتِ عملی کے حصے کے طور پر ڈیٹ فار نیچر تبادلوں کے امکانات بھی زیر غور لائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.