این جی سی کی عدم کارکردگی، اسلام آباد۔ویسٹ گرڈ اسٹیشن منصوبے کے ٹھیکیداروں کا کام معطلی کا نوٹس
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ عالمی بینک کے تعاون سے جاری اسلام آباد۔ویسٹ گرڈ اسٹیشن (آئی ڈبلیو جی ایس) کے کروڑوں ڈالر مالیت کے منصوبے کے ٹھیکیداروں نے، مبینہ طور پر آجر (نیشنل گرڈ کمپنی – این جی سی، سابقہ این ٹی ڈی سی) کی جانب سے معاہدے کی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر کام معطل کرنے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
سرکاری مراسلت کے مطابق عالمی بینک ریزیڈنٹ مشن اور وزارتِ اقتصادی امور نے پاور ڈویژن کو آگاہ کیا ہے کہ ٹھیکیدار نے معاہدہ نمبر ڈبلیو بی-ڈی ٹی ایل پی-آئی ڈبلیو جی ایس/2024 کے تحت نا کارکردگی، بقایاجات کی عدم ادائیگی اور کام معطل کرنے کے ارادے کا باضابطہ نوٹس جاری کیا ہے۔
چائنا پاور انجینئرنگ کنسلٹنگ گروپ کے نارتھ ویسٹ الیکٹرک پاور ڈیزائن انسٹی ٹیوٹ کمپنی لمیٹڈ (این ڈبلیو ای پی ڈی آئی) اور ٹی بی ای اے پر مشتمل جوائنٹ وینچر نے آجر اور عالمی بینک کو خط میں اس سے قبل کی گئی مراسلت، بشمول 30 جولائی 2025 کو جاری کیے گئے باضابطہ نوٹس (ریفرنس: این ڈبلیو ای پی ڈی آئی-آئی ایس ڈبلیو-این ٹی ڈی سی-354) اور متعدد فالو اپ میٹنگز کا حوالہ دیا۔جوائنٹ وینچر نے مؤقف اختیار کیا کہ بارہا رابطوں کے باوجود مسائل حل نہیں کیے گئے۔
ٹھیکیداروں نے کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد شدید متاثر ہوا ہے کیونکہ شیڈول 2 اور 4 کے تحت جمع شدہ 284,599,732 روپے کی عدم واپسی کے باعث فنڈنگ میں کمی واقع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں وینڈرز کی پروڈکشن سست پڑ گئی، اہم سائٹ سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور تاخیر کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
جوائنٹ وینچر نے مؤقف اختیار کیا کہ تاخیر کی واحد وجہ آجر کی غیر کارکردگی ہے، ٹھیکیدار نہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے معاہدے کے تحت وقت میں توسیع اور ہرجانہ کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا۔ خط میں مزید یاد دہانی کرائی گئی کہ 25 اگست 2025 کو بقایا سیلز ٹیکس کی واپسی کے لیے واضح ٹائم لائن دینے کی درخواست کی گئی تھی، جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ جوائنٹ وینچر کے مطابق اس صورتحال نے منصوبے کے کیش فلو، خریداری اور وسائل کی تقسیم کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے ناقابلِ قبول آپریشنل اور مالی خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
جوائنٹ وینچر نے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں بقایا جات کی ادائیگی کے لیے واضح شیڈول اور تمام زیر التوا معاملات کا حل شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو منصوبہ معاشی اور آپریشنل لحاظ سے ناقابلِ عمل ہو جائے گا۔ مزید کہا گیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں وہ کام کی رفتار کم کریں گے یا معاہدے کی جی سی سی شق 41.2(اے) کے تحت منصوبہ معطل کر دیں گے، اور اس کے تمام اخراجات اور نتائج آجر کو برداشت کرنا ہوں گے۔
دریں اثنا، وزارتِ اقتصادی امور نے پاور ڈویژن سے کہا ہے کہ وہ ٹھیکیداروں کے تحفظات فوری طور پر دور کرے تاکہ عالمی بینک کے تعاون سے جاری اس منصوبے کی پیش رفت متاثر نہ ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.