بھارت کا دور دراز، بلند و بالا صحرائی علاقہ لداخ اس وقت شدید اضطراب کا شکار ہے، جہاں سیاسی خود مختاری کے مطالبے پر ہونے والے پُرتشدد مظاہروں میں چار افراد مارے گئے۔
نئی دہلی کے براہ راست کنٹرول اور روزگار چھن جانے کے خوف کے سبب لداخ کے عوام میں بڑھتی ہوئی غم وغصے کی لہر بدھ کے روز اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب مرکزی شہر لہہ میں مشتعل ہجوم سڑکوں پر نکل آیا اور ایک پولیس گاڑی سمیت وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دفاتر کو نذرِ آتش کر دیا۔
چین اور پاکستان کی سرحد پر واقع یہ تزویراتی علاقہ، جہاں تقریباً 3 لاکھ افراد مقیم ہیں، 2019 میں مودی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر سے الگ کر کے جزوی خود مختاری ختم کرنے کے بعد سے مسلسل اضطراب کا شکار ہے۔
احتجاج کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیم خود مختاری کے خاتمے نے مقامی لوگوں کو ان کے زمین کے حقوق، نوکریوں اور وسائل پر حاصل تحفظات سے محروم کر دیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق ترقیاتی فیصلے دہلی میں ہوتے ہیں اور باہر کے افسران انہیں نافذ کرتے ہیں، جس سے مقامی منتخب کونسل بالکل بے اثر ہو کر رہ گئی ہے۔ وکیل مصطفیٰ حاجی کا کہنا ہے جموں و کشمیر کے اندر ہمیں جو بھی تحفظات حاصل تھے، وہ سب ختم ہو چکے ہیں۔
مظاہرین کی باگ ڈور ایپکس باڈی لہہ کے ہاتھ میں ہے، جس کی قیادت بزرگ رہنما چیرنگ دورجے کر رہے ہیں۔ 77 سالہ دورجے نے حکومتی رویے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں غلاموں کی طرح استعمال کیا گیا ہے۔
بدھ کے مظاہرے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے بھی کیےگئے ، جو دو ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ نئی دہلی نے ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار وانگچک کی اشتعال انگیز تقاریر کو ٹھہرایاہے ، جنہیں جمعہ کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔
























Comments
Comments are closed.