ماری انرجیز لمیٹڈ (مارى) جو پاکستان کی سب سے بڑی تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے نے ڈیٹا سینٹر منصوبوں کے ذریعے ٹیکنالوجی شعبے میں قدم رکھ دیا ہے۔ کمپنی کا اسلام آباد میں 5 میگاواٹ کا منصوبہ آئندہ سال کے اوائل میں مکمل ہوگا جبکہ کراچی میں تعمیرات پہلے ہی جاری ہے۔
ای اینڈ پی (تلاش و پیداوار کمپنی) نے یہ اپ ڈیٹ ایک سالانہ جنرل میٹنگ میں فراہم کی جس میں جمعہ کو عارف حبیب لمیٹڈ نے شرکت کی۔
بروکرج ہاؤس نے بتایا کہ پورٹ فولیو کو متنوع بنانے کی کوشش میں، ماری نے حال ہی میں دو نئے ذیلی ادارے ماری ٹیکنالوجیز (جس میں100 فیصد ملکیت ہے) اور ایس کے وائے47 (جس میں 60 فیصد ملکیت ہے) قائم کیے ہیں۔
گزشتہ سال ماری نے 10 ارب روپے یعنی تقریباً 36 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دی تھی تاکہ ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے والا مکمل ملکیتی ذیلی ادارہ قائم کیا جا سکے۔ اس اقدام کے تحت ماری نے سرکاری اور نجی اداروں کے ڈیٹا کو ہوسٹ کرنے کے لیے پورے پاکستان میں کئی مقامات پر ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
ادھر اے ایچ ایل کے مطابق ماری نے مالی سال 2025 میں اپنے 2P ریزروز میں 110 ملین بیرل آئل ایکویویلنٹ (بی او ای) کا اضافہ کیا جس سے اس کا ریزرو ریپلیسمنٹ ریشو 278 فیصد تک پہنچ گیا اور اس کا 2P ریزرو ٹو پروڈکشن (R/P) ریشو 20 سال تک بڑھ گیا۔
گزشتہ مالی سال کمپنی نے مالی سال 25 میں 39.13 ملین بیرل تیل کے مساوی (بی او ای) کی اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ پیداوار حاصل کی جو سالانہ 0.31 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ خاص طور پر ماری نے اسپن وام-ون (وزیرستان بلاک) میں ایک اہم دریافت کی اطلاع دی جس سے 50 ملین بیرل تیل کے مساوی سے زیادہ وسائل کے ساتھ چار نئے افق شامل ہوئے۔
بین الاقوامی سطح پر کمپنی نے ابوظہبی بلاک میں تین دریافتیں کیں جن میں تخمینی ذخائر 110 ملین بیرل آئل ایکویویلنٹ پر مشتمل ہیں۔
مالیاتی محاذ پرماری نے مالی سال 2025 میں 65.4 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع ریکارڈ کیا جو مالی سال 2024 میں 77.3 ارب روپے سے کم ہے۔
منافع میں اس کمی کی بنیادی وجوہات میں کم آمدن اور اس عرصے کے دوران زیادہ اخراجات شامل ہیں۔






















Comments
Comments are closed.